تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 232 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 232

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۲۹ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی سامعین کے باطل عقائد کے موافق یہ لوگ ہماری طرف سے ایسی باتیں سناتے ہیں کہ جن سے لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں۔پھر اس صورت میں خواہ ان کے سامنے کیسی ہی مدلل بات پیش کی جائے وہ ایک بھی نہیں سنتے۔مباحثہ مد کے پرچے شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے لے لئے تھے تا ان کو مباحثہ کے پرچے شائع کریں لیکن افسوس ہے کہ وہ کم ہو گئے اور یہ قیمتی مواد شائع نہ ہو گا۔د کے رہنے والوں نے چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو خود بلوا کر گالیاں مد پر طاعون کا حملہ دلوائیں اور ان کو شرارت سے باز رکھنے کی کوشش نہیں کی تھی اس لئے پانچ چھ ماہ بعد یہاں طاعون کا سخت حملہ ہوا اور دو اڑھائی سو کی آبادی میں سے مئی ۱۹۰۳ء تک ایک سو تمیں افراد اس کا شکار ہو کر لقمہ اجل ہو گئے۔1910 ء میں دوبارہ مر میں طاعون کا زور ہوا اور گاؤں کی عورتوں نے مانوں کو سخت ست کہا کہ انہوں نے مولوی ثناء اللہ وغیرہ کو بلوا کر مرزا صاحب کے حق میں سخت گوئی کی اور وبا پھیلی۔1 طاعون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا دو ہر انسان تھی کیونکہ حضور نے قبل از وقت پیشگوئی فرمائی تھی۔و اری ارض بل أريد غادرهم ربی كغصن تجذر تبارها یعنی میں دیکھتا ہوں کہ مد کی تباہی کا وقت آگیا ہے اور میرے رب نے ان کو کئی ہوئی ٹہنی کی طرح کر دیا ہے۔انعامی کتاب اعجاز احمدی" کی تصنیف و اشاعت مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مرد کے مباحثہ میں یہ بھی کہا تھا کہ کتاب "اعجاز المسیح " معجزہ نہیں اور میں اس طرح کی کتاب بناؤں گا۔سیدنا حضرت مسیح موعود کو خیال آیا کہ اگر اعجاز المسیح کی نظیر طلب کرنے پر مولوی ثناء اللہ صاحب اور دو سرے علماء صاحبان یہ حجت پیش کر عالم