تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 227
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۲۴ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی فرمائی۔پھر کچھ مدت بعد لکھا کہ اس رشتہ پر محمود بھی راضی معلوم ہوتا ہے اور گو ابھی الہامی طور پر اس بارے میں کچھ معلوم نہیں جس کے معلوم ہونے کے بارے میں مجھے خواہش ہے تا کوئی کام ہمارا مرضی الہی کے خلاف نہ ہو مگر محمود کی رضامندی ایک دلیل اس بات پر ہے کہ یہ امر غالبا واللہ اعلم جناب الہی کی رضامندی کے موافق انشاء اللہ ہو گا۔لہذا آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ کی یہ مرضی ہو اور اس میں کوئی مخالفت نہ ہو جائے جس کے مقابل پر سب ارادے کالعدم ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں اور اس شرط سے آپ تیار اور مستعد رہیں کہ جب آپ کو مسنون طور پر نکاح کے لئے لکھا جائے۔چند ہفتہ تک استخارہ کریں کہ ہر ایک کام جو استخارہ اور خدا تعالیٰ کی مرضی سے کیا جاتا ہے وہ بحالیکہ مبارک ہوتا ہے۔دوسرے میرا ارادہ ہے کہ اس نکاح میں انبیاء کی سنت کی طرح سب کام ہو۔بدعت اور بیہودہ مصارف اور تصور رسوم اس نکاح میں نہ ہوں بلکہ ایسے سیدھے سادھے طریق پر ہو جو خدا کے پاک نبیوں نے پسند فرمایا ہے۔نکاح ہو جاوے تا موجب برکات ہو۔" رڑکی میں نکاح حضرت ڈاکٹر صاحب کے غیر احمدی خاندان میں اس پر مخالفت ہوئی مگر حضرت ڈاکٹر صاحب نے بلا تامل اپنے آقا کے ارشاد پر سر تسلیم خم کر دیا جس پر اکتوبر ۱۹۰۲ء کا پہلا ہفتہ نکاح کے لئے مقرر ہوا اور قرار پایا کہ نکاح رڑکی میں ہو۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ۲/ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو قادیان سے علی الصبح حضرت مولوی نور الدین صاحب - حضرت میر ناصر نواب صاحب مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی - مفتی محمد صادق صاحب اور ڈاکٹر نور محمد صاحب کے ہمراہ رڑکی کے لئے روانہ ہوئے اور اسی روز عشاء کے وقت رڑ کی پہنچے۔اسٹیشن پر حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ استقبال کے لئے موجود تھے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے حضرت ڈاکٹر صاحب کی صاحبزادی سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ کا ایک ہزار روپیہ صریر نکاح پڑھا۔ڈاکٹر صاحب کے بھائی اس رشتہ میں ان کے مخالف تھے اور اسی لئے وہ شامل بھی نہ ہوئے تھے مگر حضرت ڈاکٹر صاحب نے اس کی چنداں پروانہ کی اور یہی کہا کہ بہر حال مسیح موعود علیہ السلام کے حکم کی تعمیل ہونی چاہیے۔۵/ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو بعد نماز عصر یہ قافلہ رڑکی سے بخیریت قادیان پہنچا۔اسی روز نماز مغرب کے بعد حضرت مسیح موعود حسب معمول شہ نشین پر رونق افروز ہوئے تو حضرت مولوی نور الدین صاحب نے مبارکباد دی اور حضرت ڈاکٹر صاحب کے اخلاص کی بہت تعریف کی جس پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت اخلاص دیا ہے۔ان میں اہلبیت اور زیر کی بہت