تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 226
تاریخ احمد بیت جلد ۲ خیریت ہے۔" نکاح ۳۱ ۲۲۳ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی مولوی غلام حسن خان صاحب نے کمال خلوص سے اس تعلق پر رضامندی کا اظہار کیا۔چنانچہ ۱۲۔ستمبر ۱۹۰۲ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے نکاح کی تقریب عمل میں آئی۔احباب نماز عصر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کمرہ کے سامنے والے صحن میں جو مسجد مبارک سے ملحق تھا۔جمع ہوئے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے آپ کا نکاح مولوی غلام حسن خان صاحب کی دختر نیک اختر سرور سلطان صاحبہ سے ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا اور ایجاب و قبول کے بعد کھجوریں تقسیم کی گئیں اور حاضرین کی تواضع چائے سے کی گئی۔اسی روز شام کو اخبار "الحکم " کا ایک غیر معمولی پر چہ اس مبارک تقریب کی خوشی میں شائع کیا گیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی شادی مئی ۱۹۰۶ ء کے دوسرے ہفتے میں ہوئی۔حضرت صاحبزادہ صاحب اپنے واجب الاحترام نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب اور برادر بزرگ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور دیگر احباب کے ساتھ قادیان سے ۱۰ / مئی شادی ۱۹۰۶ء کی صبح کو پشاور روانہ ہوئے اور ۱۶ / مئی ۱۹۰۶ ء کو بعد دو پہر واپس قادیان پہنچے۔آپ کی اولاد صاحبزادی سرور سلطان صاحبہ کے بطن سے آپ کے ہاں گیارہ بچے پیدا ہوئے جن کے نام یہ ہیں۔سیدہ امتہ السلام بیگم صاحبہ (ولادت ۷ / اگست ۱۹۰۷ء)۔صاحبزاده اول مرزا حمید احمد صاحب (متوفی ۱۹۱۰ء) - صاحبزاہ مرزا مظفر احمد صاحب (ولادت ۲۸/ فروری ۱۹۱۳ء)۔صاحبزاہ مرزا حمید احمد صاحب (ولادت ۱۵ / جنوری ۱۹۱۵ء) - سیده امتہ الحمید بیگم صاحبه (ولادت ۱۶ / اگست ۱۹۱۶ء) - صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب (ولادت اگست ۱۹۱۸ء)۔صاحبزاده مرزا مبشر احمد صاحب اول (متوفی ۱۹۲۱ء۔صاحبزادہ مرزا مبشر احمد صاحب ثانی (ولادت اگست ۱۹۲۲ء)۔صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب (ولادت ۱۸/ جولائی ۱۹۲۴ء) سیده امته المجید بیگم صاحبہ (۱۵/ جنوری ۱۹۲۶ء)۔سیدہ امته اللطیف بیگم صاحبه (۵/ نومبر ۱۹۳۵) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا نکاح ستمبر میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا نکاح ہوا تھا۔اگلے ماہ اکتوبر ۱۹۰۲ ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تقریب نکاح عمل میں آئی۔حضور کے ایک مخلص عقیدت مند حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب تھے جن کی بڑی صاحبزادی رشیدہ تھیں۔سید نا حضرت مسیح موعود نے ڈاکٹر صاحب کو انہی کے متعلق رشتہ کی تحریک