تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 8
تاریخ احمدیت جلد ۲ A مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام سے ارشاد فرمایا کہ ہماری جماعت بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی اور گورنمنٹ کی ہدایتوں کی دل و جاں سے پیروی کر کے اپنی نیک ذاتی اور نیک عملی اور خیر اندیشی کا نمونہ دکھا دے۔علاوہ ازیں حضور نے پہلے ہی " تریاق الہی" نامی ایک الہامی دوا بھی اڑھائی ہزار روپیہ کے صرف سے تیار کروائی تاجس وقت پنجاب میں طاعون پھیلنے کا احتمال ہو یہ دو اللہ تقسیم کر دی جائے ساتھ ہی بدن پر مالش کے لئے " مرہم عیسی بھی بنائی جو طاعون کی تمام قسموں کے لئے تیر بہدف اور مادہ سمی کی بہترین مدافعت کرتی ہے۔دوائے طاعون کے لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب نے دو ہزار روپے کے یا قوت رمانی دیئے۔نیز شیخ رحمت اللہ صاحب نواب محمد علی خان صاحب، ڈاکٹر بوڑے خاں صاحب اسٹنٹ سرجن قصور اور منشی رستم علی صاحب کو رٹ انسپکٹر انبالہ اور کئی اور دوستوں نے بھی اس کارخیر میں حصہ لیا۔یہ دوا تیار ہو چکی تو حضور اقدس نے ۲۳ / جولائی ۱۸۹۸ء کو اشتہار دیا جس میں عوام کے لئے پیش قیمت طبی ہدایات دیں اور ان ظاہری تدابیر کے ساتھ جو ہمیشہ سنت صلحاء کا خاصہ رہی ہیں سب سے ضروری بات یہ لکھی کہ ”خد اتعالیٰ سے گناہوں کی معافی چاہیں ، دل کو صاف کریں اور نیک اعمال میں مشغول ہوں۔یہ اشتہار دو ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔انہیں دنوں حضور پر روحانی طریق سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ طاعون اور خارش کا مادہ ایک ہے چنانچہ حضور نے مشورہ دیا کہ اگر تجربہ کرنے والے اس امر کی طرف توجہ کریں اور بطور حفظ ما تقدم طاعون سے متاثرہ مقامات پر خارش کا مرض پھیلا دیں تو ممکن ہے کہ مادہ طاعون اس راہ سے تحلیل ہو جائے اور طاعون سے نجات مل جائے۔ملکی اخبارات کی مخالفت حضور نے طاعون کی پیشگوئی سے متعلق جو پہلا اشتہار شائع فرمایا وہ ملکی اخبارات کو بھی بھجوادیا تھا مگر افسوس کمفر علماء کے علاوہ اخبارات نے بھی جو عوام کے نمائندے تھے اور ان کی مفید راہنمائی کر سکتے تھے اپنے قلم کا پورا زور گورنمنٹ کے قانون طاعون پر جرح قدح کرنے میں صرف کر دیا اور گورنمنٹ کے قانون اور مذہبی دست درازی کی آڑ لے کر اس سلسلہ میں چھوت چھات کی ایسی طویل بحثیں چھیڑ دیں کہ اصلی مقصد ہی فوت ہو گیا۔لاہور کے روزنامہ پیسہ اخبار " نے حضور کے اشتہار کے ایک حصہ کو بہت معقول مئوثر قیمتی مشورہ بہت عمدہ اور مدلل تسلیم کرنے کے باوجود اس پر متعدد اعتراضات اٹھائے۔مخالفین حضرات اسی طرح مخالفت کر رہے تھے کہ جلد ہی طاعون پنجاب میں بھی داخل ہو گئی۔شروع میں اس کا حملہ زیادہ سخت نہیں تھا مگر وہ رفتہ رفتہ تیز ہوتی گئی یہاں تک کہ ۱۹۰۲ ء میں اس نے کافی زور پکڑ لیا اور ۱۹۰۳ ء سے لے کر ے ۱۹۰ء تک تو اس نے پورے صوبہ میں وہ تباہی مچائی کہ لوگوں