تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 9
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام کی آنکھوں کے سامنے قیامت کا نمونہ آگیا۔ہزاروں دیہات ویران ہو گئے۔سینکٹروں شہروں اور قصبوں کے محلے کے محلے خالی ہو گئے اور بعض جگہ ایسی تباہی آئی کہ مردوں کو دفن کرنے کے لئے کوئی آدمی نہیں ملتا تھا اور لاشیں سڑکوں اور گلیوں میں پڑی ہوئی سڑتی تھیں۔جب یہاں تک نوبت پہنچی تو وہی اخبارات جنہوں نے حضرت اقدس کے اشتہارات پر ہنسی اڑائی تھی برملا لکھنے لگے کہ ” یہ سب باتیں ثابت کرتی ہیں کہ خدا کے علم میں پنجاب کو ابھی اس وباء سے بہت کچھ نقصان پہنچنا تھا۔نیز انہیں حضرت اقدس کے بیان کی لفظاً لفظ تصدیق کرتے ہوئے لکھنا پڑا کہ طاعون کا اگر علاج ہے تو یہی ہے جو ہر شہر کے باشندے کر رہے ہیں کہ بد اعمال ترک کر کے نیچے دل سے جناب باری میں التجا کریں تاکہ اس کا دریائے رحم جوش میں آکر اس قہر کی آگ کو بجھا دے۔" ٣٣ حضور کی وفات کی مفتریانہ خبر انہیں دنوں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام طاعون کے پنجاب پر خطر ناک حملہ کی خبر دے کر انہیں نیکی، تقوی شعاری اور اخلاق و مروت کی تلقین فرما رہے تھے ، آپ کے مخالفوں نے آپ کی وفات کی مفتریا نہ خبر اڑا دی۔یہ افسوسناک حرکت ملا محمد بخش جعفرز ٹلی نے کی تھی جس نے افسوسناک حادثہ " کے عنوان سے اس مضمون کا اشتہار شائع کیا کہ مرزا صاحب (معاذ اللہ ) طاعون میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے ہیں۔یہ خبر چو نکہ بڑی تیزی سے ملک بھر میں پھیل گئی تھی اس لئے ۳/ اپریل ۱۸۹۸ء کو اس کے ازالہ کے لئے اخبار الحکام کا ایک غیر معمولی پر چہ شائع کرنا پڑا۔"البلاغ " یا " فریاد درد" کی تصنیف اور دنیا کی اہم زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت کی جامع سکیم کا اعلان کتاب امہات المومنین کی اشاعت ایک بد زبان کشمیری مرقد احمد شاہ شائق عیسائی نے جو کسی زمانہ میں لداخ کا میڈیکل افسر اور جگر اؤں ضلع لدھیانہ کا مشنری بھی رہ چکا تھا۔انگلینڈ میں امہات المؤمنین " کے نام سے ایک گندی کتاب لکھی جو آر پی پریس گوجر انوالہ میں چھپی اور اوائل ۱۸۹۸ء میں بڑے وسیع پیمانے پر مفت تقسیم کی