تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 153 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 153

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۵۰ پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ کی ایک شرط بھی ہرگز قبول نہ کریں اور آپ شرائط پر شرائط بڑھاتے جائیں اور وہ بھی ایسے ناممکن العمل کہ کبھی ہو نہ سکیں" (عصائے موسیٰ صفحہ ۴۲۰) ان الفاظ سے اس شرط کی اہمیت نمایاں ہو جاتی ہے۔دراصل حضرت اقدس کو اس موقع پر یہی سب سے بڑا شکوہ تھا کہ ایک دینی معاملہ اخلاق و تحمل کے جس ماحول کا مقتضی ہے وہ سرے سے مفقود ہے۔اگر عملا یہ بات نہیں تھی تو مطلوبہ ذمہ داری حاصل کرنے کو ناممکن العمل " کیوں قرار دیا گیا۔خصوصاً جب کہ یہ اصحاب پیر صاحب کے مرید یا ہم عقیدہ ہی تھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی اس قسم کا ایک واقعہ ملتا ہے۔چنانچہ سفن ابو داؤد " کتاب الخراج و الفنی والامارۃ باب خبر النفسیر) میں لکھا ہے کہ بنو نضیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ میں آدمی لے کر آئیں ہم بھی اپنے اخبار لے کر آئیں گے۔اگر ہمارے اخبار آپ کی تصدیق کریں تو ہمیں بھی کچھ عذر نہ ہو گا لیکن چونکہ وہ بغاوت کی تیاری کر چکے تھے حضور علیہ السلام نے کہلا بھیجا کہ جب تک تم ایک معاہدہ نہ لکھ دو تم پر اعتماد نہیں کر سکتا۔تبلیغ رسالت جلد ۱۰ صفحه ۱۴۱۱۳۷ ے واقعات صحیحه ۲ صفحه ۷۱ - ۶۳ ۷۲ تبلیغ رسالت جلد ۹ صفحه ۹۶ ۷۳- اربعین نمبر صفحه او " اربعین نمبر ۴ صفحه ۱۴ ۷۴۔ان کی اشاعت کی تاریخیں یہ ہیں۔نمبر - ۲۳ جولائی ۱۹۰۰ء ، نمبر ۲۔۲۷۔ستمبر ۱۹۰۰ء ، نمبر ۳ ۴ - ۱۵- دسمبر ۱۹۰۰ء ، ضمیمه نمبر ۳-۴-۲۹٬۱۵ دسمبر ۶۱۹۰۰ ۷۵- اربعین نمبر صفحه ۵۰۴ ۷ اربعین نمبر ۲ صفحه ۲۸-۲۹ ۷- اربعین نمبر ۲ صفحه ۲۹-۳۰ ۷۸- "اربعین نمبر ۲ صفحه ۳۲ ۰۷۹ "اربعین نمبر ۲ صفحه ۴۰ ۰۸۰ ضمیمه اربعین نمبر ۳ ۴ صفحه تار قرآن مجید میں جو مکمل ضابطہ حیات ہے صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ ولو تقول علينا بعض الاقاويل - لا خذنا منه باليمين۔ثم لقطعنا منه الوتين (الحاقه (۲۴) یعنی اگر ہمارا یہ رسول ﷺ کوئی جھوٹا الہام بنا کر ہماری طرف منسوب کر تا تو ہم اسے یقینا دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے۔اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔خدا تعالی کے اس واضح معیار اور آنحضرت ا کے دعوئی الہام کے بعد تیس سالہ عمر کی روشنی میں علامہ سعد الدین تفتازانی (۱۳۲۲/۱۳۹۰) نے مذہبی دنیا کو چیلنج دیا تھا۔فان العقل يجزم بامتناع اجتماع هذة الامور في غير الانبياء وان يجمع الله هذة الكمالات فى حق من يعلم انه يفتري عليه ثم يمهل ثلاثا و عشرين سنه " " شرح عقائد نسفی صفحه ۱۳۰ مطبوعہ مصرو "نبراس صفه ۴۴۴) یعنی عند العقل یہ بات ممتنع قرار پاتی ہے کہ اللہ تعالی ایک مفتری کو ۲۳ سال کی مہلت دے۔عالم اسلام کے مشہور مناظر حضرت امام ابن قیم (متوفی ۷۵ء) عیسائیوں کے سامنے آنحضرت ﷺ کی صداقت میں سب سے بڑی دلیل یہی پیش کیا کرتے تھے (زاد المعاد جلد ا صفحہ ۵۰۰) ان متکلمین کے علاوه علامه فخر الدین رازی (۱۱۵۰- ۱۲۱۰) امام ابو جعفر طبری (متوفی ۶۸۳۵) حضرت علامہ خطیب بغدادی (۱۰۰۶-۱۰۷۰) علامہ حافظ ابو الفداء اسمعیل بن عمرو مشقی (متوفی ۶۱۳۷۲) علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی ۱۵۰۵ء) صاحب کشاف علامہ محمد بن عمرد ز مشتری (۱۰۷۴- ۱۱۴۲) اور دوسرے اکابر امت بھی یہی مسلک رکھتے تھے۔ہندوستان میں جب پادری فنڈل نے "میزان الحق" میں رسول خدا اس پر اعتراض کیا تو مولوی رحمت اللہ صاحب کیرانوی (۱۸۹۱۱۸۱۷) اور مولوی سید آل حسن صاحب قنوجی نے ازالہ اوہام " اور " استفسار " میں اسی دلیل سے عدوان دین کا منہ بند کیا تھا کہ آنحضرت ا اگر مفتری ہوتے تو تیس سالہ ملت دعوی نبوت کے بعد کیوں کر پا سکتے تھے۔حال کے علماء میں سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری (۱۸۶۸ - ۱۹۴۸) نے بھی اسے تسلیم کرتے ہوئے صاف لکھا تھا۔”نظام عالم میں جہاں اور قوانین الہی ہیں وہاں یہ بھی ہے کہ کاذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہوتی بلکہ وہ جان سے مارا جاتا ہے۔واقعات گزشتہ سے بھی اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ خدا نے کبھی کسی مدعی نبوت کو