تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 154 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 154

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۵۱ پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ سرسبزی نہیں دکھائی یہی وجہ ہے کہ دنیا میں باوجود غیر متناہی مذاہب ہونے کے جھوٹے نبی کی امت کا ثبوت مخالف بھی نہیں بتلا سکتے۔مسیلمہ کذاب اور عبید اللہ عنسی نے دعویٰ نبوت کے کئے لیکن آخر کار خدا کے زبر دست قانون کے نیچے آکر کچلے گئے دعوی نبوت کاذبہ مثل زہر کے ہے جو کوئی زہر کھائے گا ہلاک ہو گا " (مقدمہ تفسیر ثنائی صفحہ ۷ ۱ مطبوعہ مطبع چشمه نور امرتسر ۱۳۱۴) غرض کہ یہ امت محمدیہ کا ایک مسلمہ متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے کہ جھو ٹامدعی الهام آیت لو تقول کے مطابق ۲۳ برس مہلت نہیں پاسکتا اور نہ کامیابی کا منہ دیکھ سکتا ہے۔۸۲- اربعین نمبر ۳ صفحه ۱۸ ( طبع اول) ۸۳- اربعین نمبر ۳ صفحه ۸ تا ۱ ۸۴- انجام آتھم صفحه ۲۶۰ ۸۵ خفیف سے تصرف کے ساتھ " تحفہ گولڑویہ " سر ورق صفحہ ۲ سے ماخوذ ہے۔۸۶ دریائے سندھ کے کنارے تحصیل صوابی ضلع پشاور میں ایک گاؤں کوٹھ شریف نامی ہے یہ بزرگ اسی جگہ رہتے تھے اور پیر کوٹھے والے کے نام سے مشہور تھے۔۱۷۹۵ء میں پیدا ہوئے اور ۱۸۷۸ء میں وفات پائی۔ان کے مرید ان کو تیرھویں صدی کے مجدد اور دوسرا مجدد الف ثانی " یقین کرتے ہیں۔پیر صاحب کے سوانح حیات اور ملفوظات مراقبات اور بعض الهامات "مخزن عرفانی " اور " نظم الدرر فی ملک السیر " کے نام سے شائع شدہ ہیں۔موخر الذکر کتاب فارسی میں تھی جس کا اردو ترجمہ " در اسرار " کے نام سے جون ۱۹۸۵ء میں پشاور سے صاحبزادہ بک فاؤنڈیشن نے شائع کر دیا ہے)۔۸۷- پیر کو ٹھ شریف کے جانشین تھے۔جنوری ۱۹۰۵ء میں فوت ہوئے بمقام نینی تال آپ کا مزار ہے۔۸۸ " تحفہ گولردید " طبع اول صفحه ۳۴ تا ۳۶ (حاشیہ)۔