تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 147 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 147

ریت - جلد ۲ ۱۴۴ پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ اپنی کتاب میں اور مولوی اسمعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا کیوں کہ کاذب ہے۔مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مرگئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا te مگر پھر بھی یہ لوگ عبرت نہیں پکڑتے۔" Ar علماء کا عجز اس انعامی چیلینج کے مقابلہ میں حافظ محمد یوسف صاحب اور ان کے ہم خیال علماء بالکل لاجواب اور عاجز رہ گئے اور وہ کوئی ایک نظیر بھی پیش نہ کر سکے۔اور بعض علماء نے بڑی دیدہ ریزی اور برسوں کی مسلسل سعی و جدوجہد کے بعد جو مثالیں پیش کیں ان کا حضرت اقدس کے چیلنج سے کوئی تعلق ہی نہ تھا یعنی ان کے پیش کردہ بعض افراد تو وہ تھے جن کا دعویٰ الہام تاریخی اعتبار سے ثابت نہیں ہو سکتا اور جن کے متعلق ایساد عومی ثابت ہوتا ہے وہ یا تائب ہو گئے یا کیفر کردار تک پہنچ کر لو تقول کی ابدی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر گئے۔پیر مہر علی شاہ صاحب پر اتمام حجت اور " تحفہ گولڑویہ " کی تصنیف و اشاعت AC حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیر مہر علی شاہ صاحب نے (جو تغیر نویسی کے مقابلہ سے چھٹکارا پانے کے لئے ) دعوت مباحثہ دی تو چونکہ آپ انجام آتھم " میں اپنے اس فیصلہ کا اعلان فرما چکے تھے کہ آئندہ علماء سے ان کی غیر اسلامی روش اور دشنام طرازی کے سبب کبھی مباحثہ نہیں کریں گے بلکہ مخاطب تک نہیں کریں گے۔اس لئے حضور نے مباحثہ تو منظور نہیں کیا مگر طبعا آپ کو اندیشہ ہوا کہ عوام کا حافظہ بہت کمزور اور غور و فکر کا مادہ کم ہوتا ہے وہ اگر چہ یہ تو سمجھ لیں گے کہ پیر صاحب عربی فصیح میں تغییر لکھنے پر قادر نہیں تھے لیکن ساتھ ہی ان کو یہ خیال بھی گزرے گا کہ منقولی مباحثات پر ضرور وہ قادر ہوں گے تبھی تو درخواست پیش کر دی اور اپنے دلوں میں گمان کریں گے کہ ان کے پاس حضرت مسیح کی زندگی اور حضور کی صداقت کے دلائل کے رد میں کچھ دلائل ہیں۔اور ان کا ذہن قطعاً اس طرف نہیں جائے گا کہ یہ زبانی مباحثہ کی جرات بھی آپ ہی کے عہد ترک بحث نے ان کو ولائی ہے جو انجام آتھم میں طبع ہو کر لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکا تھا۔لہذا حضور نے " تحفہ گولڑویہ " جیسی لاجواب کتاب تالیف فرمائی اور اعلان کیا کہ اگر پیر صاحب اس کے مقابل کوئی رسالہ لکھ کر میرے تمام دلائل اول سے آخر تک تو ڑ دیں اور پھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بٹالہ میں