تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 148
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۱۴۵ پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ ایک جلسہ منعقد کر کے ہم دونو کی حاضری میں یہ تمام دلائل ایک ایک کر کے حاضرین کے سامنے ذکر کریں اور پھر ہر ایک دلیل کے مقابل پر جسے وہ کسی تصرف کے بغیر حاضرین کو سنادیں پیر صاحب کے جوابات سنادیں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں کہ یہ جوابات صحیح ہیں اور دلیل پیش کردہ کا قلع قمع کرتے ہیں تو میں پچاس روپیہ انعام پیر صاحب کو ان کے فاتح ہونے کے اعتراف میں اسی مجلس میں دے دوں گا اور اگر پیر صاحب تحریر فرما ئیں تو میں یہ رقم پہلے سے مولوی محمد حسین صاحب کے پاس جمع کرادوں گا تم کھانے کے بعد میری شکایت ان پر کوئی نہیں ہوگی صرف خدا پر نظر ہوگی جس کی وہ قسم کھا ئیں گے پیر صاحب کا یہ اختیار نہیں ہو گا کہ یہ فضول عذرات پیش کریں کہ میں نے پہلے سے رد کرنے کے لئے کتاب لکھی ہے کیوں کہ انہوں نے اگر اس انعامی رسالہ کا جواب نہ دیا تو بلاشبہ واضح ہو جائے گا کہ وہ سیدھے طریق سے مباحثات پر بھی قادر نہیں ہیں۔چنانچہ عملاً ایسا ہی ہوا۔پیر صاحب موصوف اور ان کے مرید زمین و آسماں کے قلابے تو ملاتے رہے مگر انہیں اس کا جواب دینے اور سیدھے سادھے طریق فیصلہ کے قبول کرنے کی آخر دم تک جرات نہ ہو سکی۔تحفہ گولڑویہ کی تالیف کا آغاز جولائی ۱۹۰۰ء میں ہوا اور اس کی اشاعت یکم ستمبر ۱۹۰۲ء میں ہوئی یہ مفصل و مدلل تصنیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے دلائل و براہین کا جامع اور لطیف ترین مجموعہ ہے۔اس میں حضور نے موسوی و محمدی سلسلوں کی حیرت انگیز مماثلت بیان کرتے ہوئے قرآن کریم و حدیث اور اولیاء امت محمدیہ کے کشوف اور پیش گوئیوں سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح کر دکھایا ہے کہ مسیح موعود کو چودھویں صدی میں ظہور کرنا چاہئے تھا اور یہ کہ وہ میں ہی ہوں جس کے آنے سے خدا کے گزشتہ نوشتے ایسی صفائی سے پورے ہو گئے کہ کسی کو انکار کی مجال نہیں رہی۔حضرت پیر کو ٹھے والے صاحب کی شہادت اس ضمن میں آپ نے بالخصوص ایک صاحب کشف و الهام بزرگ پیر کو ٹھے والے صاحب II کی شہادت پیش کی جنہوں نے اپنی وفات سے چند سال قبل اپنے خاص محبوں کو بتا دیا کہ امام مهدی آخر الزماں پیدا ہو چکا ہے لیکن ابھی ظاہر نہیں ہوا۔زبان اس کی پنجابی ہے۔اس پر اس قدر شدید مصائب آئیں گے جن کی نظیر گزشتہ زمانہ میں نہ ہوگی مگرا سے ذرہ بھر پروانہ ہوگی نیز خبر دی کہ میرے بعض احباب مہدی آخری الزماں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے یہ شہادت حضرت پیر کو ٹھے والے کے خلیفہ زادہ حکیم محمد یکی صاحب دیگرانی نے ۲۳۔جنوری ۱۹۰۰ء کو حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجوائی تھی جو حضرت پیر صاحب کے دو خاص مصاحبوں ( حافظ نور محمد صاحب