تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 146
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ Ar ن شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ اس اشتہار میں لکھے ہیں اپنے اس دعوئی میں صادق ہیں یعنی اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعوی کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر با وجود مفتری ہونے کے برابر تیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت ا ہے زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے جو مجھے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانچ سو روپیہ نقد دے دوں گا۔" حضرت اقدس نے صرف اس چیلنج پر اکتفا نہ کرتے ہوئے لو تقول کی قرآنی دلیل پر ہر پہلو سے مفصل روشنی ڈالی اور تحریر فرمایا کہ "ہم یقینا جانتے ہیں کہ قرآنی دلیل کبھی ٹوٹ نہیں سکتی یہ خدا کی پیش کردہ دلیل ہے نہ کسی انسان کی۔کئی کم بخت بد قسمت دنیا میں آئے اور انہوں نے قرآن کی اس دلیل کو توڑنا چاہا مگر آخر آپ ہی دنیا سے رخصت ہو گئے مگر یہ دلیل نہ ٹوٹ سکی۔حافظ صاحب علم سے بے بہرہ ہیں ان کو خبر نہیں کہ ہزار ہا نامی علماء اور اولیاء ہمیشہ اس دلیل کو کفار کے سامنے پیش کرتے رہے اور کسی عیسائی یا یہودی کو طاقت نہ ہوئی کہ کسی ایسے شخص کا نشان دے جس نے افتراء کے طور پر مامور من اللہ ہونے کا دعوئی کر کے زندگی کے تئیس برس پورے کئے ہوں۔پھر حافظ صاحب کی کیا حقیقت اور سرمایہ ہے کہ اس دلیل کو توڑ سکیں۔معلوم ہوتا ہے کہ اسی وجہ سے بعض جاہل اور ناظم مولوی میری ہلاکت کے لئے طرح طرح کے حیلے سوچتے رہے ہیں تا یہ مدت پوری نہ ہونے پارے جیسا کہ یہودیوں نے نعوذ باللہ حضرت مسیح کو رفع سے بے نصیب ٹھہرانے کے لئے صلیب کا حیلہ سوچا تھا تا اس سے دلیل پکڑیں کہ عیسی بن مریم ان صادقوں میں سے نہیں ہے جن کا رفع الی اللہ ہو تا رہا ہے مگر خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا اور اپنی طرف سے تیرا رفع کروں گا جیسا کہ ابراہیم اور دوسرے پاک نیوں کا رفع ہوا۔سو اسی طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں اسی برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا تا لوگ کمئی عمر سے کاذب ہونے کا نتیجہ نہ نکال سکیں جیسا کہ یہودی صلیب سے نتیجہ عدم رفع کا نکالنا چاہتے تھے۔۔۔اور خدا نے مجھے اطلاع دی کہ بعض ان میں سے تیرے پر بد دعا کیا بھی کرتے رہیں مگر ان کی بددعائیں میں انہی پر ڈالوں گا اور در حقیقت لوگوں نے اس خیال سے کہ کسی طرح لو تقول کے نیچے مجھے لے آئیں۔منصوبہ بازی میں کچھ کمی نہیں کی۔بعض مولویوں نے قتل کے فتوے دئے بعض مولویوں نے جھوٹے قتل کے مقدمات بنانے کے لئے میرے پر گواہیاں دیں بعض مولوی میری موت کی جھوٹی پیش گوئیاں کرتے رہے۔بعض مسجدوں میں میرے مرنے کے لئے ناک رگڑتے رہے بعض نے جیسا کہ مولوی غلام دستگیر قصوری نے