تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 145 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 145

تاریخ احمر بہت جلد ۲ پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار شہر اور ان کے ہم خیال علماء کے لئے پانچ سو روپیہ کا انعامی اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی مسیحیت کے وقت اکثر مخالف علماء اور عامتہ المسلمین کا یہ خیال تھا کہ آپ کی تحریک مخالفت کی تاب نہ لا کر بہت جلد تباہ و برباد ہو جائے گی۔لیکن برسوں کی آویزش اور کشمکش کے بعد جب اللہ تعالی کے فضل سے حضور کی جماعت روز بروز بڑھتی گئی اور اسے غیر معمولی ترقی نصیب ہونے لگی اور حضور کے دعوئی الہام و کلام پر تمہیں اور اس کی اشاعت پر بھی اکیس برس ہو گئے تو اس کا رد عمل اس شکل میں ظاہر ہوا کہ انہوں نے قرآن مجید کے واضح اعلان اور امت کے چودہ سو سالہ متفقہ عقیدہ سے ہٹ کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ کسی شخص کا دعوئی الهام و کلام کے بعد تئیس برس کی مہلت پانا اور ترقی حاصل کرنا اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہے۔یہ خیال غالبا سب سے پہلے بر ملا پیش کرنے والے حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار شہر تھے جنہوں نے لاہور میں بعض غلط کار علماء سے متاثر ہو کر ایک مجلس میں جہاں مرزا خدا بخش صاحب ، میاں معراج دین صاحب عمر ، مفتی محمد صادق صاحب صوفی محمد علی صاحب کلرک، میاں چٹو صاحب لاہوری، خلیفہ رجب دین صاحب شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹرا حکم ، حکیم محمد حسین صاحب قریشی ، حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی ، میاں چراغ دین صاحب کلرک اور مولوی یار محمد صاحب موجود تھے۔بڑے اصرار کے ساتھ اپنے اس مسلک کا اظہار کیا کہ اگر کوئی نبی یا رسول یا اور کوئی مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعوی کرے تو اپنے افتراء کے ساتھ تئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے یعنی افتراء علی اللہ کے بعد اس قدر عمر پاتا اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہو سکتا نیز دعوی کیا بلکہ تحریر لکھ دی کہ ایسے کئی لوگوں کے نام میں نظیر ا پیش کردوں گا جنہوں نے نبی یا رسول یا مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔تئیس برس یا اس سے زیادہ عرصہ تک لوگوں کو سناتے رہے کہ خدا کا کلام ہم پر نازل ہوتا ہے حالانکہ وہ کاذب تھے۔اس دعوئی پر چونکہ براہ راست رسول خدا ان کی ذات ستودہ صفات پر زد پڑتی تھی اور نبوت محمدیہ پر خطرناک حرف آتا تھا اس لئے حضور نے اربعین نمبر ۳ اور نمبر ۴ میں حافظ محمد یوسف صاحب اور ان کے ہم خیال علماء مشائخ اور سجادہ نشینوں کو پانچ سو روپیہ انعام کا اعلان کرتے ہوئے زبردست چیلنج دیا کہ "اگر حافظ محمد یوسف صاحب اور ان کے دوسرے ہم مشرب جن کے نام میں نے