تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 144
تاریخ احمدیت جلد ۲ پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ زبر دست نشان دیکھتی اور امت مسلمہ کا انتشار اور تفرقہ بھی بہت حد تک رفع ہو جاتا۔مگر افسوس اس زمانہ کے مامور ربانی کی درد بھری آواز کا جواب سب و شتم اور گالیوں کی شکل میں دیا جس پر حضرت اقدس نے ۲۹۔دسمبر ۱۹۰۰ء کو لکھا۔میں محض نصیحتا مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی۔لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بدعائیں کریں اور رو رو کر استیصال چاہیں۔پھر اگر میں کاذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی اور آپ لوگ ہمیشہ دعا ئیں کرتے بھی ہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعا ئیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر مسجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گریہ و زاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائیں گی۔کیوں کہ میں خدا تعالیٰ سے آیا ہوں۔جو شخص میرے پر بد دعا کرے گاوہ بد دعا اسی پر پڑے گی۔جو شخص میری نسبت یہ کہتا ہے کہ اس پر لعنت ہو وہ لعنت اس کے دل پر پڑتی ہے مگر اس کو خبر نہیں۔" ” میری روح میں وہی سچائی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔مجھے خدا سے ابراہیمی نسبت ہے۔کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میرا خدا۔مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔میں وہ پودہ نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔اگر ان کے پہلے اور ان کے پچھلے اور ان کے زندے اور ان کے مردے تمام جمع ہو جائیں۔اور میرے مارنے کے لئے دعائیں کریں تو میرا خدا ان تمام دعاؤں کو لعنت کی شکل پر بنا کر ان کے منہ پر مارے گا۔دیکھو صد ہا دانش مند آدمی آپ لوگوں کی جماعت میں سے نکل کر ہماری جماعت میں ملتے جاتے ہیں۔آسمان پر ایک شور برپا ہے اور فرشتے پاک دلوں کو کھینچ کر اس طرف لا رہے ہیں اب اس آسمانی کارروائی کو کیا انسان روک سکتا ہے ؟ بھلا اگر کچھ طاقت ہے تو رو کو۔وہ تمام مکر و فریب جو نبیوں کے مخالف کرتے رہے ہیں وہ سب کرو اور کوئی تدبیر اٹھائے نہ رکھو۔ناخنوں تک زور لگاؤ۔اتنی بد دعائیں کرو کہ موت تک پہنچ جاؤ پھر دیکھو کہ کیا بگاڑ سکتے ہو۔خدا کے آسمانی نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں مگر بد قسمت انسان دور سے اعتراض کرتے ہیں۔جن دلوں پر مہریں ہیں ان کا ہم کیا علاج کریں۔اے خدا ! تو اس امت پر رحم کر ، آمین۔" | A = ¦