تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 137 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 137

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۳۴ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد جس میں مولوی غازی صاحب وغیرہ پیر صاحب کے مریدوں نے صاف لفظوں میں اقرار کیا کہ نہ خدا ہمارا طرف دار ہے اور نہ بیماروں کو ہماری دعا سے شفاء ہو سکتی ہے۔مرزا صاحب یک طرفہ نشان دکھا ئیں اور مریضوں کو شفاء دلائیں۔افہام و تفہیم کی یہ سب صورتیں جب یکسر ناکام رہیں تو حکیم فضل الہی صاحب اور میاں معراج الدین صاحب عمر نے دوسرے دن (۲۶۔اگست ۱۹۰۰ ء کو پیر صاحب کے نام ایک رجسڑی خط میں درخواست کی کہ وہ اپنی دستخطی تحریر سے شائع فرما دیں کہ مجھے ۲۰۔جولائی ۱۹۰۰ء کی دعوت تفسیر نویسی بلا کم و کاست منظور ہے لیکن افسوس پیر صاحب نے رجسڑی لینے سے صاف انکار کر دیا مگر ان کے مریدوں نے یہ خبر پھیلائی کہ پیر صاحب نے تو مرزا صاحب کو ۲۵۔اگست کو کئی تار دئے ہیں مگر مرزا صاحب کی طرف سے ہی کوئی جواب نہیں ملا جس پر ۲۷۔اگست کو اشتہار دیا گیا کہ پیر صاحب اللہ شہادت شائع کر دیں کہ یہ خبر صحیح ہے تو ہم اکاون روپے بطور نذرانہ پیش کریں گے مگر پیر صاحب بدستور خاموش رہے۔اس کے بعد یہ ہوا کہ اسی روز صبح شاہی مسجد میں علماء کرام نے اصل واقعات پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک بھاری جلسہ کیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ مرزا صاحب اور ان کے مریدوں کی پروانہ کریں اور نہ ان کی کسی بات کا جواب دیں۔اس موقع پر منشی نظام الدین صاحب فنانشل سیکرٹری انجمن حمایت اسلام نے پیر صاحب کی خدمت میں باصرار درخواست کی کہ وہ بھی اپنے خیالات سے مستفید فرما ئیں۔پھر بادشاہی مسجد میں لوگوں نے بڑی لجاجت سے درخواست کی کہ پبلک جلسہ میں کچھ فرما ئیں۔مگر انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ میری آواز دھیمی ہے میں منبر پر کھڑے ہو کر تقریر کرنے کے قابل نہیں ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مفصل اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اس صورت حال کا علم ہوا تو آپ نے ۲۸۔اگست ۱۹۰۰ء کو ایک مفصل اشتہار دیا جس میں لکھا کہ " مجھے معلوم ہوا کہ لاہور کے گلی کوچے میں پیر صاحب کے مرید اور ہم مشرب شہرت دے رہے ہیں کہ پیر صاحب تو بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے لاہور پہنچ گئے تھے مگر مرزا بھاگ گیا اور نہیں آیا۔اس لئے پھر عام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ تمام باتیں خلاف واقع ہیں جب کہ خود پیر صاحب بھاگ گئے ہیں اور بالمقابل تفسیر لکھنا منظور نہیں کیا اور نہ ان میں یہ مادہ اور نہ خدا کی طرف سے تائید ہے اور میں بہر حال لاہور پہنچ جاتا۔مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی پیر صاحب کے ساتھ ہیں اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوں کی طرح گالیاں دیتے پھرتے i