تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 138 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 138

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۳۵ منارۃ المسیح کی تحریک اور بنیاد ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوش سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے تو اس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام II کے کس طرح مناسب ہے۔۔۔پھر بھی اگر پیر صاحب نے اپنی نیت کو درست کر لیا ہے اور سیدھے طور پر بغیر زیادہ کرنے کسی شرط کے وہ میرے مقابل میں عربی میں تفسیر لکھنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بہر حال اس مقابلے کے لئے جو محض بالمقابل عربی تغییر لکھنے میں ہو گا لاہور میں اپنے تئیں پہنچاؤں گا۔صرف دو امر کا خواہش مند ہوں جن پر لاہور میں میرا پہنچنا موقوف ہے۔اول یہ کہ پیر صاحب سیدھی اور صاف عبارت میں بغیر کسی بیچ ڈالنے یا زیادہ شرط لکھنے کے اس مضمون کا اشتہار اپنے نام پر شائع کر دیں جس پر پانچ لاہور کے معزز اور مشہور ارکان کے دستخط بھی ہوں کہ میں نے قبول کر لیا ہے کہ میں بالمقابل مرزا غلام احمد قادیانی کے عربی فصیح بلیغ میں تفسیر قرآن شریف لکھوں گا۔۔۔اور چونکہ موسم برسات ہے اس لئے ایسی تاریخ اس مقابلہ کی لکھنی چاہئے کہ کم از کم تین دن پہلے مجھے اطلاع ہو جائے۔۔دوسرا امر جو میرے لاہور پہنچنے کے لئے شرط ہے وہ یہ ہے کہ شہر لاہور کے تین رئیس یعنی نواب شیخ غلام محبوب سبحانی صاحب اور نواب فتح علی شاہ صاحب اور سید برکت علی خاں صاحب سابق اکٹرا اسسٹنٹ ایک تحریر بالاتفاق شائع کر دیں کہ ہم اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے مریدوں اور ہم عقیدوں کی طرف سے گالی یا کوئی وحشیانہ حرکت ظہور میں نہیں آئے گی۔اور یادر ہے کہ لاہور میں میرے ساتھ تعلق رکھنے والے پندرہ یا بیس آدمی سے زیادہ نہیں ہیں اور میں ان کی نسبت یہ انتظام کر سکتا ہوں کہ مبلغ دو ہزار روپیہ ان تینوں رئیسوں کے پاس جمع کرادوں گا۔اگر میرے ان لوگوں میں سے کسی نے گالی دی یا زدو کوب کیا تو وہ تمام روپیہ میرا ضبط کر دیا جائے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ اس طرح پر خاموش رہیں گے کہ جیسے کسی میں جان نہیں مگر پیر مہر علی شاہ صاحب جن کو لاہور کے بعض رئیسوں سے بہت تعلقات ہیں اور شاید پیری مریدی بھی ہے ان کو روپیہ جمع کرانے کی کچھ ضرورت نہیں کافی ہو گا کہ حضرات معزز رئیساں موصوفین بالا ان تمام سرحدی پر جوش لوگوں کے قول اور فعل کے ذمہ دار ہو جائیں جو پیر صاحب کے ساتھ ہیں اور نیز ان کے دوسرے لاہوری مریدوں خوش عقیدوں اور مولویوں کی گفتار کردار کی ذمہ داری اپنے سر لے لیں جو کھلے کھلے طور پر میری نسبت کہہ رہے ہیں اور لاہور میں فتویٰ دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ان چند سطروں کے بعد جو ہر سہ رئیساں مذکورین بالا اپنی ذمہ داری سے اپنے دستخطوں کے ساتھ شائع کر دیں گے اور پیر صاحب کے نذ کورہ بالا اشتہار کے بعد پھر میں اگر بلا توقف لاہور میں نہ پہنچ جاؤں تو کاذب ٹھہروں گا۔"