تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 136 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 136

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ منارۃ المسیح کی تحریک اور بنیاد سلطان محمود صاحب آف راولپنڈی، محمد دین صاحب کتب فروش لاہور اور دوسرے مرید اپنے قابل احترام پیر صاحب سے صاف لفظوں میں یہ اشتہار نہیں دلواتے کہ ہمیں حضرت اقدس کا مقابلہ تفسیر نویسی بلا شرط منظور ہے گو حضرت اقدس کی طرف سے مقابلہ کی مجوزہ تاریخ گزر چکی ہے تاہم اگر وہ اب بھی اسے تسلیم فرمائیں تو دوبارہ مناسب تاریخ مقرر ہو جائے گی اور حضرت اقدس اس میں شامل ہو جائیں گے۔جب اس اشتہار پر بھی پیر صاحب کی طرف سے خاموشی رہی تو انہوں نے اشتہار کی بجائے پیر صاحب کی خدمت میں نہایت ادب سے ایک دستی خط میں لکھا کہ اگر در حقیقت جناب دین اسلام پر رحم کر کے اس بڑے فتنے کو مٹانے کے لئے ہی لاہور میں تشریف لائے تو فی الفور اپنے دستخط خاص سے اس مضمون کی ایک تحریر شائع کردیں کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب کے ساتھ ان کے ۲۵۔جولائی ۱۹۰۰ ء والے اشتہار کے مطابق بلا کم و کاست شرائط سے مقابلہ تفسیر نویسی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ایسی تحریر پر کم از کم لاہور کے چار مشہور رئیسوں اور مولویوں کے شہادۃ دستخط کرا دیں ہم یہ عرض بادب کرتے ہیں کہ اللہ آپ اس فیصلہ کے لئے آمادہ ہوں اور کسی طرح گریز کا خیال نہ فرمائیں۔" یہ خط اگلے دن ۲۵ اگست کو لکھا گیا تھا۔ایک غیر از جماعت دوست میاں عبدالرحیم صاحب داروغہ مارکیٹ۔حکیم سید محمد عبد اللہ صاحب بغدادی، منشی عبد القادر صاحب مدرس ، میاں میر بخش صاحب دکاندار لاہور کے ہمراہ پیر صاحب کی خدمت میں نماز ظہر کے وقت پہنچے۔پیر صاحب موصوف نے فرمایا کہ اس کا جواب عصر کے بعد دیں گے مگر جب داروغہ صاحب پانچ بجے ان کی قیام گاہ پر پہنچے تو ان کے مریدوں نے داروغہ صاحب کو اندر نہ جانے دیا اور باہر ہی سے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ پیر صاحب اس خط کا کوئی جواب نہیں دیتے۔لاہور کے خدام مسیح موعود نے ۲۷۔جون ۱۹۰۰ء سے بذریعہ اشتہار ایک چیلنج دے رکھا تھا کہ اگر کوئی عالم یا گدی نشین اپنے تئیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ پر حق پر سمجھتے ہیں تو وہ بھی جمع ہو کر دعا کی قبولیت میں مقابلہ کرلیں اور وہ اس طرح کہ بعض لاعلاج مریضوں اور مصیبت زدوں کو بذریعہ قرعہ اندازی تقسیم کر لیا جائے۔آدھے حضرت مرزا صاحب کے حصے میں اور آدھے فریق ثانی کے حصے میں۔دونو خدا سے دعا کریں اور چالیس دن کے اندر اندر خدا سے خبرپا کر یہ بات شائع کر دیں کہ ہمارے مریضوں میں سے فلاں فلاں مریض تندرست ہو جائیں گے جس کی دعا سے مریض تندرست اور مصیبت زدہ خوش حال ہو جائیں وہ حق پر سمجھا جائے۔اس سیدھے سادھے طریق کے جواب میں ایک طویل خاموشی کے بعد اسی روز ۲۵ - اگست ۱۹۰۰ء کو لاہور میں ایک اشتہار تقسیم ہوا