تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 135
ت جلد ۲ ۱۳۲ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تغیر نویسی کے مقابلہ کے متعلق حضرت مسیح طرف سے صحیح صورت حال کا اظہار موعود علیہ السلام کی مخلصانہ پیش کش ٹھکرائی جاچکی تھی اور کسی منقولی بحث میں الجھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا تھا تا ہم حضرت اقدس علیہ السلام نے اصلاح احوال کے لئے یہ ارادہ کر لیا کہ اپنے خدام میں سے سید محمد احسن صاحب فاضل امرد ہوی ایسے بلند پایہ عالم کو فقط منقولی بحث کے لئے بھجوا دیں لیکن خود سید صاحب ہی نے جب گندے خطوط کا یہ سلسلہ دیکھا تو انہوں نے اعراض ہی کو بہتر سمجھا اور حضرت اقدس سبھی اپنے ارادے نے دستکش ہو گئے اور ۲۵۔اگست ۱۹۰۰ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ سے یہ تمام تفصیلات پبلک میں شائع کر دیں۔اور ساتھ ہی پیر صاحب موصوف کا اشتہار بھی شامل کر دیا تا قارئین با آسانی فیصلہ کرلیں کہ کیا ان کی کارروائی نیک نیتی پر مبنی ہے ؟ اب پیر صاحب کی سنئے۔انہوں نے ۱۲۔اگست کو یہ پیر صاحب کی لاہور میں اچانک آمد اشتہار دیا اور یہ انتظار کئے بغیر کہ حضرت اقدس کی ۵۶ [02] طرف سے اس کا کیا جواب دیا جا تا دو تین روز بعد ہی اپنے مریدوں کی ایک بڑی جمعیت لے کر ۲۴۔اگست بروز جمعہ لاہور پہنچ گئے۔حضرت اقدس نے تفسیر نویسی کے مقابلہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی اور مولوی عبد اللہ صاحب ٹونکی پروفیسر اور نینٹل کالج لاہور کا نام بطور ثالث تجویز کیا تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اس موقع پر اپنے ایک ذاتی کام کے بہانہ سے شملہ کی طرف چلے گئے مگر موخر الذکر دو اصحاب اس دن آموجود ہوئے اور مزعومہ مباحثہ کی کارروائی سننے کے لئے بیرونی مقامات سے بھی کافی لوگ آپہنچے۔پیر صاحب کے مریدوں نے آتے ہی یہ اشتہار دے دیا کہ پیر صاحب بغرض مباحثہ آگئے ہیں اور انہوں نے مرزا صاحب کے تمام شرائط منظور کرلئے ہیں۔پیر صاحب کا یہاں قدم رکھناہی تھا کہ لاہور میں یکا یک مخالفت کا ایک خوفناک سیلاب امڈ آیا۔بر سر عام گالیاں سنائی دینے لگیں اور منبروں سے حضرت اقدس کے واجب القتل ہونے کے وعظ ہونے لگے۔پیر صاحب کو میدان تفسیر نویسی میں لاہور کے مخلص احمدیوں نے پیر صاحب کی آمد کی اطلاع ملتے ہی یہ مخلصانہ سعی و جدوجهد 04- لانے کے لئے مخلصانہ سعی و جد و جهد شروع کردی که پیر صاحب مقابله تفسیر نویسی کے لئے تیار ہو جائیں۔چنانچہ انہوں نے ۲۴۔اگست ہی کو اشتہار دے دیا کہ پیر صاحب کے عقیدت مند لا ہور اور راولپنڈی سے حضرت اقدس کے خلاف گالیوں سے پر اشتہارات دے رہے ہیں۔مگر