تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 120
تاریخ احمدیت جلد ۲ مثارة المسیح کی تحریک اور بنیاد سوسور پید کے حصوں پر تقسیم فرمایا۔چنانچہ یکم جولائی ۱۹۰۰ء کے اشتہار میں منار کے اخراجات کی فراہمی کے لئے حضرت اقدس اپنے اء ا خدام کی ایک فہرست شائع کرتے ہوئے کم از کم ایک ایک سو روپیہ چندہ دینے کی تحریک فرمائی اور فیصلہ کیا کہ اس پر لبیک کہنے والوں کے نام منار پر بطور یادگار کندہ کرائے جائیں گے۔اس تحریک کے ساتھ ہی آپ کے چار مخلص خدام منشی عبد العزیز صاحب او جلوی اور میاں شادی خان صاحب لکڑی فروش سیالکوٹ، مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور شیخ نیاز احمد صاحب تاجر و زیر آباد نے حضور کی شرط کے مطابق چندہ پیش کر دیا جن میں سے اول الذکر رو اصحاب کا تذکرہ حضور نے اس اشتہار کے آغاز میں بھی نہایت درجہ تعریفی کلمات میں فرمایا اور ان کی قربانی کو جماعت کے لئے قابل رشک قرار دیا۔حضرت ام المومنین نے منار کے لئے ایک ہزار روپیہ کا چندہ لکھوایا جو دہلی کے ایک ذاتی مکان کی فروخت سے ادا کیا۔منار کے لئے ابتدائی انتظامات منار کے لئے ابتدائی انتظامات میں پہلا مرحلہ نقشہ نویسی اور اینٹوں کی تیاری کا تھا۔یہ دونوں کام ۱۹۰۱ء کے آخر 12 تک پایہ تکمیل کو پہنچے۔منار کے لئے مختلف جگہیں زیر تجویز تھیں۔حضرت حکیم الامت مولانا نور الدین صاحب نے اپنا مکان پیش فرمایا کہ اس میں بنے مگر حضور نے مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں اس کی تعمیر کا فیصلہ فرمایا۔II منار کا نقشہ اور تخمینہ حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کے چھوٹے بھائی سید عبدالرشید نے بنایا اور اینٹوں کے لئے زمین میاں امام دین صاحب قادیانی نے دی۔اینٹیں تو ایک مناسب مقدار میں ۱۹۰۱ء کے آخر تک تیار ہو چکی تھیں لیکن چونکہ جلد سنگ بنیاد ہی ملک پر طاعون نے سخت حملہ کر دیا تھا اور سیالکوٹ اور بعض دوسرے مقامات جہاں سے معماروں کو آنا تھا اس وبا کی زد میں آچکے تھے۔اس لئے ڈیڑھ سال تک کام معطل رہا اور بالاخر ۱۳ ذو الحجہ ۱۳۲۰ھ مطابق ۱۳۔مارچ ۱۹۰۳ء بروز جمعہ اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔اس دن جمعہ کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور حکیم فضل التي صاحب لاہوری ، مرزا خدا بخش صاحب شیخ مولا بخش صاحب قاضی ضیاء الدین صاحب وغیرہ احباب نے عرض کیا کہ حضور کے دست مبارک سے منارۃ المسیح کی بنیادی اینٹ رکھی جائے تو مناسب ہو گا۔حضور نے فرمایا کہ ہمیں تو ابھی تک معلوم بھی نہیں کہ آج اس کی بنیاد رکھی جاوے گی۔اب آپ ایک اینٹ لے آئیں میں اس پر دعا کردوں گا اور پھر جہاں میں کہوں وہاں آپ جا کر رکھ دیں۔چنانچہ حکیم فضل الہی صاحب اینٹ لے آئے اور حضور نے اسے ران مبارک پر رکھ کر لمبی دعا فرمائی۔دعا کے بعد آپ نے اس اینٹ پر دم کیا اور حکیم فضل الہی صاحب سے ارشاد فرمایا کہ آپ اس کو (مجوزہ) منارۃ المسیح کے مغربی حصہ میں