تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 119
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ منارة المسیح کی تحریک اور بہار جائے گی اور یہ فتح نمایاں کا میدان ہو گا۔یہ کام بہت جلدی کا ہے۔دلوں کو کھولو او رخدا کو راضی کرد۔یہ روپیہ بہت سی برکتیں ساتھ لے کر پھر آپ کی طرف واپس آئے گا۔میں اس سے زیادہ کرنا نہیں چاہتا اور ختم کرتا ہوں۔" یہ اشتہار شائع ہوا تو ہندوستان کے بعض علماء نے جن کا مقصد محض تکذیب تھا یہ علماء کا اعتراض اعتراض کیا کہ منارہ پر روپیہ خرچ کرنا اور گھڑیال رکھنا دونوں اسراف ہیں۔اس پے حضرت اقدس نے یکم جولائی ۱۹۰۰ ء کو دوسرا اشتہار دیا کہ ہمیں تعجب ہے کہ ایسی گستاخی کی باتیں زبان پر لانے والے پھر بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔یاد رہے کہ اس منارہ کے بنانے سے اصل غرض یہ ہے کہ تا پیغمبر خدا کی پیش گوئی پوری ہو جائے۔یہ سی قسم کی غرض ہے جیسا کہ ایک صحابی کو کسری کے مال میں سے سونے کے کڑے پہنائے تھے تا ایک پیش گوئی پوری ہو جائے اور نمازیوں کی تائید اور وقت شناسی کے لئے منارہ پر گھنٹہ رکھنا تو اب کی بات ہے نہ گناہ۔اصل بات یہ ہے کہ یہ مولوی نہیں چاہتے کہ آنحضرت ﷺ کی کوئی پیش گوئی پوری ہو۔اس اشتہار میں حضور نے مخلصین کو مخاطب کر کے لکھا۔خدا تعالٰی کا ارادہ تھا کہ قادیان میں منارہ بنے کیوں کہ مسیح موعود کے نزول کی یہی جگہ ہے۔سو اب یہ تیسری مرتبہ خدا تعالیٰ نے آپ کو موقعہ دیا ہے کہ اس ثواب کو حاصل کریں۔جو شخص اس ثواب کو حاصل کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہمارے انصار میں سے ہو گا۔" و مسیح موعود کا حقیقی نزول یعنی ہدایت اور برکات کی روشنی کا دنیا میں پھیلنا یہ اس پر موقوف ہے کہ یہ پیش گوئی پوری ہو یعنی منارہ تیار ہو۔" "سو ابتداء سے یہ مقدر ہے کہ حقیقت مسیحیہ کا نزول جو نور اور یقین کے رنگ میں دلوں کو پھیرے گا منارہ کی تیاری کے بعد ہو گا۔" حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد تعمیری اخراجات کے لئے مخلصین کی قربانی عینکہ اسی اثانی ایدہ اللہ تعالی کا بیان (خلیفتہ ہے کہ حضرت اقدس مسجد مبارک میں بیٹھے تھے۔منار بنانے کی تجویز در پیش تھی۔میر حسام الدین صاحب سیالکوٹی نے دس ہزار کا تخمینہ لگایا۔مگر سوال یہ تھا کہ دس ہزار روپیہ کہاں سے آئے۔کیوں کہ اس وقت جماعت کی حالت زیادہ کمزور تھی اور ان حالات میں منارہ کی تعمیر مشکل کام تھا اور حضور بار بار فرماتے تھے کہ کوئی ایسی تجویز بتاؤ کہ اس سے بھی کم روپیہ خرچ ہو۔آخر حضور نے دس ہزار کو