تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 118
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۱۵ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد مجد د حضرت امام جلال الدین صاحب سیوطی کا ذہن خود بخود اس طرف منتقل ہو گیا کہ منار کا خاص دمشق میں ہونا ضروری نہیں اسے صرف دمشق سے مشرقی جانب ہونا چاہئے خواہ کہیں ہو۔قادیان میں منار کی تعمیر کے لئے الہی تحریک سوای تعبیر کے عین مطابق خدا تعالی کی طرف سے ۱۹۰۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تحریک ہوئی کہ قادیان کی مسجد اقصیٰ میں (جو حدیث کے مطابق دمشق سے ٹھیک مشرقی جانب واقع ہے) ایک سفید منار تعمیر کیا جائے نیز یہ خبر دی گئی کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے اس منار کی تعمیر کا گہرا تعلق ہے۔منار کے لئے اشتہار یہ زمانہ مالی اعتبار سے جماعت کے لئے بڑا پر آشوب زمانہ تھا۔ویسے بھی جماعت کی تعداد نہایت قلیل تھی اور ایسے عظیم الشان منار کے لئے کثیر رقم کی ضرورت تھی جس کا مہیا ہونا ایک مختصری جماعت کے لئے (جسے تبلیغ حق کے دو سرے کاموں میں بھی اپنی طاقت و بساط سے بڑھ کر خرچ کرنا پڑتا تھا، بڑا ہی مشکل امر تھا مگر جوں ہی خدا کا حکم آگیا حضرت اقدس نے ہر قسم کے عواقب و خطرات سے بے نیاز ہو کر ۲۸/ مئی ۱۹۰۰ء کو جماعت کے نام ایک مفصل اشتہار شائع فرمایا جس میں بڑی شرح وبسط سے لکھا کہ۔" حدیث نبوی کے مطابق ایک اونچا مزار بنانے کی تجویز کی گئی ہے جو مازنہ کا کام دے گا۔اس پر لالٹین اور گھنٹہ بھی نصب ہو گا۔منارہ تصویری زبان میں مسیح محمدی سے متعلق پیش گوئی لیظهرة علی الدین کلہ کی طرف سے اشارہ کرے گا کہ جس طرح یہ مینار بلند ہے اسی طرح اسلامی سچائی بلندی کے انتہاء تک پہنچ جائے گی۔اور جس طرح پر بلند ہونے والی آواز سب پر چھا جاتی ہے اسی طرح دین اسلام سب دیوں پر غالب آئے گا۔منارہ کی لائین اور گھنٹہ یہ حقیقت بتائیں گے کہ زمینی علوم کے ساتھ آسمانی روشنی کا زمانہ آگیا اور دنیا کو اپنا وقت پہچاننا چاہئے۔" " منارة المسیح کی عظمت و اہمیت بیان کرتے ہوئے حضور نے جماعت کو تحریک فرمائی کہ یہ منارہ وہ منارہ ہے جس کی ضرورت احادیث نبویہ میں تسلیم کی گئی اور منارہ کا خرچ دس ہزار روپیہ سے کم نہیں ہے اور جو دوست اس منارہ کی تعمیر کے لئے مدد کریں گے۔میں یقینا سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھاری خدمت کو انجام دیں گے۔اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ ایسے موقع پر خرچ کرنا ہر گز ہرگز ان کے نقصان کا باعث نہیں ہو گا۔وہ خدا کو قرض دیں گے اور معہ سود واپس لیں گے۔کاش ان کے دل سمجھیں کہ اس کام کی خدا کے نزدیک کس قدر عظمت ہے۔جس خدا نے منارہ کا حکم دیا ہے اس نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام کی مردہ حالت میں اس جگہ سے زندگی کی روح پھونکی