تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 117
تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ۱۱۴ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد منارة المسيح مخبر صادق رسول خدا ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ بعث الله عیسی ابن مریم فینزل عند المنارة البيضاء شرقی دمشق - یعنی اللہ تعالٰی عیسی بن مریم کو معبوث فرمائے گا اور آپ ایک سفید منارہ کے پاس نزول فرما ہوں گے جو دمشق کے شرقی طرف واقع ہو گا۔(صحیح مسلم شریف مصری جلد ۲ باب ذکر الدجال و صفته و مامعه صفحه ۳۳۰) اسلام کے عہد اول سے ہی یہ عقیدہ عام تھا کہ یہ منارہ بیضاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دلائل نبوت سے ہے اسی لئے یہ پیش گوئی پوری کرنے کے لئے ۴۶۱ ھ مطابق ۱۰۶۹ء میں بڑے اہتمام سے دمشق میں جامع اموی میں کئی لاکھ دینار کے صرف سے مینار بنایا گیا لیکن شوال ۷۴۰ ھ بمطابق اپریل ۱۳۴۰ ء میں عیسائیوں نے جامع اموی کو آگ لگادی اور مینار بھی تباہ ہو گیا جس پر اس کی دوبارہ بنیاد رکھی گئی جو ابن طولون کی تحقیق کی رو سے ۷۷۴ھ (بمطابق ۷۳ - ۱۳۷۲ء) میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔ازاں بعد ۸۰۳ھ (بمطابق ۱۴۰۰ء) میں جب تیمور نے دمشق پر چڑھائی کی تو جامع مسجد میں پھر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔تیمور نے آگ پر قابو پانے کی ہر چند کوشش کی مگر اسے سرا سرنا کامی ہوئی اور جامع اور مینار دونوں پوری طرح اس کی زد میں آگئے اور جل گئے۔نامور اسلامی مورخ ابن خلدون اور صاحب ” ظفر نامہ " نے بھی اس حادثہ کا ذکر کیا ہے۔دمشق کے وقائع نگار محمد ادیب نے اس آتشزدگی کی بابت لکھا ہے کہ اس وقت جامع اموی کی پوری عمارت نذر آتش ہو گئی۔مصحف عثمانی کا نسخہ جو اس میں رکھا تھا وہ بھی اس کی زد میں آگیا۔علاوہ ازیں کتابوں کا تمام ذخیرہ ضائع ہو گیا۔بالاخر دو برس بعد شام کے گور نر شیخ خاصکی نے ۸۰۵ھ (بمطابق ۳۔۱۴۰۲ء) میں اس کی تعمیر کا کام شروع کیا۔اب تیسری بار کی سعی وجد وجہد سے گو جامع اموی بھی تعمیر ہو گئی اور منارہ عیسی" کے نام سے منارہ بھی قائم کر دیا گیا مگر خدا تعالٰی کا منشاء یہ تھا کہ مسیح موعود کے زمانے اور اس کے مقام ظہور میں اس کی بناء رکھی جائے۔اس لئے اب عام خیال کے بر عکس بعض مفکرین اسلام مثلا نویں صدی ہجری کے