تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 112
تاریخ احمدیت جلد ۲ 1-9 جہاد بالسیف) کے التواء کا توئی "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد زریں سے لے کر آج تک مسلمانوں کا ہمیشہ یہ شعار رہا کہ وہ جس حکومت کے زیر سایہ رہے اس کے وفادار اور اطاعت گزار رہتے۔یہ صرف ان کا طرز عمل نہ تھا بلکہ ان کے مذہب کی تعلیم تھی جو قرآن مجید حدیث فقہ سب میں کنایتہ " اور صراحتاذ کو رہے۔" م مولاناسید سلیمان صاحب ندوی (۱۸۸۴ء) - ۱۹۵۳ء) لکھتے ہیں " جہاد کے معنی عموماً قتال اور لڑائی کے سمجھے جاتے ہیں مگر مفہوم کی یہ تنگی قطعا غلط ہے۔۔۔لغت میں اس کے معنی محنت اور کوشش کے ہیں اس کے قریب قریب اس کے اصطلاحی معنی بھی ہیں یعنی حق کی بلندی اور اشاعت اور حفاظت کے لئے ہر ایک قسم کی جدو جہد ، قربانی اور ایثار گوارا کرنا اور اس کے لئے جنگ کے میدان میں اگر ان سے لڑنا پڑے تو اس کے لئے بھی پوری طرح تیار رہنا بھی جہاد ہے " افسوس کہ مخالفوں نے اتنے اہم اور اتنے ضروری اور اتنے وسیع مفہوم کو جس کے بغیر دنیا میں کوئی تحریک نہ سرسبز ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے صرف دین کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کے تنگ میدان میں محصور کر دیا ہے۔" ”یہاں ایک شبہ کا ازالہ کرنا ضروری ہے کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جہاد اور قبال دونوں ہم معنی ہیں حالانکہ ایسا نہیں بلکہ ان دونوں میں عام و خاص کی نسبت ہے یعنی ہر جہاد قتال نہیں بلکہ جہاد کی مختلف قسموں میں سے ایک قتال اور دشمنوں کے ساتھ لڑنا بھی ہے۔" ۳۱ مولوی ظفر علی خاں صاحب آف زمیندار (۶۱۸۷۳-۱۹۵۶ء) لکھتے ہیں: اسلام نے جب کبھی جہاد (جہاد بالسیف مراد ہے۔ناقل) کی اجازت دی ہے مخصوص حالات میں دی ہے۔جہاد ملک گیری کی ہوس کا ذریعہ تکمیل نہیں ہے۔۔۔اس کے لئے امارت شرط ہے۔اسلامی حکومت کا نظام شرط ہے۔دشمنوں کی پیش قدمی اور ابتداء شرط ہے۔اتنی شرطوں کے ساتھ جو مسلمان خدا کی راہ میں نکلتا ہے اس کو کوئی شخص مطعون نہیں کر سکتا۔البتہ اگر مسلمانوں نے اپنی حکومت و سلطنت کے زمانہ میں کبھی ملک گیری کے لئے توسیع مملکت اقوام وام کو غلام بنانے کے لئے تلوار اٹھائی ہے تو اس کو جہاد سے کوئی تعلق نہیں۔" خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی (۱۸۷۸ء۔۱۹۵۵ء) لکھتے ہیں: " جہاد کا مسئلہ ہمارے ہاں بچے بچے کو معلوم ہے وہ جانتے ہیں کہ جب کفار مذہبی امور میں ہارج ہوں اور امام عادل جس کے پاس حرب و ضرب کا پورا سامان ہو لڑائی کا فتویٰ دے تو جنگ ہر