تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 113
تاریخ احمدیت - جلد ۲ ١١٠ جہاد بالسیف) کے التواء کا لتونی مسلمان پر لازم ہو جاتی ہے مگر انگریز نہ ہمارے مذہبی امور میں دخل دیتے ہیں نہ اور کسی کام میں ایسی زیادتی کرتے ہیں جس کو ظلم سے تعبیر کر سکیں نہ ہمارے پاس سامان حرب ہے ایسی صورت میں ہم لوگ ہرگز ہر گز کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالیں گے۔"جہاد فی الاسلام" کے مصنف سید ابولاعلیٰ صاحب مودودی (ولادت ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء) انگریزی حکومت کے متعلق تحریر کرتے ہیں: ”ہندوستان اس وقت بلاشبہ دار الحرب تھا جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔اس وقت مسلمانوں کا فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جائیں لڑاتے یا اس میں ناکام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے لیکن جب وہ مغلوب ہو گئے انگریزی حکومت قائم ہو چکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کر لیا تو اب یہ ملک دار الحرب نہیں رہا۔" ان چند تحریرات ہی سے جو بطور مثال درج کی گئی ہیں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو مسلک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسئلہ جہاد کے متعلق اختیار فرمایا مسلمانوں کے جید علماء بالا خر اس کی تائید کرنے پر مجبور ہوئے۔