تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 111
تاریخ احمدیت جلد ۲ I-A جہاد بالسیف) کے التواء کا فتوی میں ملک کے مختلف حصوں سے پانچ سو سے زائد علماء کا اجتماع ہوا اور وہاں یہ طے پایا کہ تشدد کا یہ راستہ غلط ہے موجودہ دور میں اسلامی حکومت کا قیام تقریبا نا ممکن ہے لہذا کانگرس کے ساتھ شامل ہو کر ہندوستان کی تمام قومیں مل کر ملک کا انتظام کریں اور جمہوری حکومت بنا ئیں۔چنانچہ اس وقت تک ہم اسی عقیدے پر قائم ہیں اور ہم اسی راستہ کو صحیح راستہ سمجھتے ہیں۔" حضرت مسیح حضرت مسیح موعود کے نظریہ جہاد کی تائید علماء کی طرف سے موعود علیہ السلام کے نظریہ جہاد نے عالم اسلامی کے افکار و خیالات پر کتنا گہرا اثر ڈالا ہے اس کا اندازہ کرنے کے لئے صرف بر صغیر ہند و پاک کے بعض جید علماء کی تحریرات ذیل میں درج کرتے ہیں: مولانا ابو الکلام آزاد سابق وزیر تعلیم بھارتی حکومت (۶۱۸۸۸-۱۹۵۸ء) لکھتے ہیں: " جہاد کی حقیقت کی نسبت سخت غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاد کے معنی صرف لڑنے کے ہیں۔مخالفین اسلام بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے۔حالانکہ ایسا سمجھنا اس عظیم الشان مقدس حکم کی عملی وسعت کو بالکل محدود کرتا ہے۔جہاد کے معنی کمال درجہ کوشش کرنے کے ہیں۔قرآن و سنت کی اصطلاح میں اس کمال درجہ سعی کو جو ذاتی اغراض کی جگہ حق پرستی اور سچائی کی راہ میں کی جائے جہاد کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔یہ سعی زبان سے بھی ہے مال سے بھی ہے۔اتفاق وقت و عمر سے بھی ہے محنت و تکالیف برداشت کرنے سے بھی ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں لڑنے اور خون بہانے سے بھی ہے۔" "دشمنوں کی فوج سے خاص وقت ہی میں مقابلہ ہو سکتا ہے لیکن ایک مومن انسان اپنی ساری زندگی کی ہر صبح و شام جہاد حق میں بسر کرتا ہے۔۔۔اس سے معلوم ہوا کہ لڑائی کے الگ کر دینے کے بعد بھی حقیقت جہاد باقی رہتی ہے۔" TA مولانا حسین احمد صاحب مدنی (۶۱۸۷۶۔۱۹۵۷ء) لکھتے ہیں: اگر کسی ملک میں اقتدار اعلیٰ کسی غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں ہو لیکن مسلمان بھی بہرحال اس اقتدار میں شریک ہوں اور ان کے مذہبی اور دینی شعائر کا احترام کیا جاتا ہو تو وہ ملک حضرت شاہ صاحب (یعنی شاہ عبد العزیز قدس سرہ ناقل) کے نزدیک بلاشبہ دار الاسلام ہو گا اور - از روئے شرع مسلمانوں کا فرض ہو گا کہ وہ اس ملک کو اپنا ملک سمجھ کر اس کے لئے ہر نوع کی خیر خواہی اور خیر اندیشی کا معاملہ کریں۔" مولانا شبلی نعمانی (۱۸۵۷ء۔۱۹۱۴ء) لکھتے ہیں: