تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 110
تاریخ احمدیت جلد ۲ 1۔4 جہاد بالسیف) کے التواء کا فتونی زمانہ کی ترقی میں انگریزی حکومت کی سرپرستی کو بہت کم دخل ہے۔مرزا صاحب اپنی زندگی میں اپنے معتقدین کو ایک منظم اور روبہ ترقی جماعت کی صورت میں قائم کر چکے تھے۔مرزا صاحب ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے تھے اس وقت تک ہندوستان میں تحریک آزادی نے صحیح معنوں میں جنم ہی نہ لیا تھا اور انگریزوں کو اپنی رعایا میں وفا پیشہ افراد اور جماعتوں کی خاص طور پر حاجت نہ ہوئی تھی۔مرزا صاحب کے زمانے میں ان کے مشہور مقتدر مخالفین مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی ، پیر مہر علی شاہ گولڑوی ، مولوی ثناء اللہ صاحب سرسید احمد خاں سب انگریزوں کے ایسے ہی وفادار تھے جیسے مرزا صاحب۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں جو لٹریچر مرزا صاحب کے رد میں لکھا گیا اس میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ مرزا صاحب نے اپنی تعلیمات میں غلامی پر رضا مند رہنے کی تلقین کی ہے۔" برسوں کی آویزش کے بعد حکم و جہاد کی بناء پر جماعت احمدیہ پر انگریز کے آلہ کار ہونے کا خیال پیدا کرنے والے دماغ دار العلوم tt عدل کے علم کلام کی طرف رجوع دیوبند کی اس سیاسی تحریک کی طرف منسوب ہوتے ہیں جس کے بانی مشہور عالم مولوی محمود الحسن صاحب (۱۸۵۱۔۱۹۲۰) تھے جنہوں نے ۱۹۱۵ء میں تشدد اور جارحیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہندوستان کی قائم شدہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے ایک انقلابی پروگرام تجویز کیا جس کا خمیازہ ہندوستان کے مسلمانوں اور دوسرے ہندوستانی باشندوں کو نہایت عبرت انگیز رنگ میں بھگتنا پڑا۔ہزاروں نفوس جیل میں ڈال دیئے گئے اور سینکڑوں تختہ دار پر لٹکا دیئے گئے۔اور غلامی کی زنجیریں پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئیں۔تشد در جبر کے اس دوسرے تجربہ کی ناکامی نے مولوی محمود الحسن صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کی آنکھیں کھول دیں اور وہ بالا خر ۱۹۲۰ ء میں یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوئے کہ ان کا متشددانہ مسلک غلط ہے چنانچہ ایک مسلمان لیڈر کا (جن کی پوری زندگی جماعت احمدیہ کو انگریز کا خود کاشتہ پودا ثابت کرنے کی کوشش میں صرف ہوئی ہے بلکہ یہ خیال ابتداء انہی کے ذہن کی پیداوار ہے) اعتراف ہے کہ : ۱۸۵۷ء کے ہنگامے میں علماء شریک ہوئے اور ناکامی کے بعد مارے گئے کچھ قید ہوئے۔ہزاروں انسان قتل ہوئے ، شہزادے قتل ہوئے ، ان کا خون کیا گیا۔ان مصیبتوں کے بعد ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔اسلامی حکومت قائم کرنے کا خیال شکست کھا گیا۔اس کے بعد پھر ۱۹۱۴ء میں علماء کی ایک جماعت نے اسی خیال سے یعنی مسلم راج کرنے کے خیال سے تحریک شروع کی اور اس میں بھی شکست کھائی۔اس کے بعد ۱۹۲۰ء میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیو بند مالٹا سے رہا ہو کر تشریف لائے۔دہلی