تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 109
1-4 جهاد (بالسیف) کے التواء کا فتوئی ہے حضور نے جہاد بالسیف سے متعلق فتوی دیتے ہوتے ہوئے ساتھ ہی یہ تصریح بھی کر دی کہ جہاد ایک عرصہ کے لئے ملتوی کیا گیا ہے ہمیشہ کے لئے اٹھا نہیں لیا گیا۔اسی ضمن میں حضور ابتداء ہی سے صاف لفظوں میں بتاتے آرہے تھے کہ یہ التواء فقط اس لئے ہے کہ ہمارے ملک میں اور اس زمانہ میں جہاد کی شرائط موجود نہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں۔فَرُ فِعَتْ هَذِهِ السُّنَّةُ بِرَفْعِ أَسْبَابِهَا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ یعنی جہاد (بالسیف) اس لئے جائز نہیں کہ اس زمانہ اور اس ملک ہندوستان میں اس کی شرائط معدوم ہیں۔نیز فرمایا " وَا مِرْنَا أَنْ تُعِدَّ لِلْكَفِرِيْنَ كَمَا يُعِدُّونَ لَنَا وَلَا نَرْفَعُ الْحُسَامَ قَبْلَ أَنْ نُقْتَلَ بِالْحُسَامِ - " یعنی ہمیں مامور ہی اس غرض سے کیا گیا ہے کہ ہم کافروں کے مقابل اسی قسم کی جنگ کی تیاری کریں جس طرح ہمارے مقابل کرتے ہیں اور یہ کہ تلوار سے قتل کئے جانے سے قبل تلوار نہ اٹھا ئیں۔اس مسلک کی وضاحت آپ نے اردو کے الفاظ میں یہ فرمائی کہ اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے۔اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمہ اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دین متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلا دیں۔یہی جہاد ہے جب تک کہ خدا تعالی کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کر دے۔" فتویٰ کی مخالفت اور افسانہ کی اختراع حضرت مسیح موعود کے اس علمی جہاد کبیر کے اعلان پر اگر مسلمانان عالم توجہ کرتے تو آج دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا مگر افسوس یہ عجیب بات ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو فتوی دیادہ اگر چہ عمل ۱۸۸۲ء سے علماء ہند کے سامنے تھا اور لدھیانہ کے چند علماء کے سوا جو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے نزدیک روح اسلام سے معرا اور سراسر نا واقف و جاہل تھے علمائے ہند نے آپ کا موقف صحیح تسلیم کیا۔لیکن جب آپ نے اٹھارہ برس بعد محض رسول خدا ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں اس مسلک کا باقاعدہ اعلان کیا تو اس پر علماء کی طرف سے زبر دست شور و غوغا بلند ہوا۔اور باوجودیکہ آپ نے ساتھ ہی وضاحت کر دی کہ اس فتویٰ سے شرائط جہاد کے کالعدم ہونے کے باعث جہاد بالسیف کا التواء مقصود ہے مگر اس اعلان کو نہایت درجہ خدا نا ترسی اور حق پوشی کے ساتھ انکار جہاد" سے تعبیر کیا گیا۔برسوں کے بعد جب عوامی ذہن اس پراپیگینڈا کے قبول کرنے کے لئے تیار ہو گیا تو اس میں سیاست کا رنگ بھرتے ہوئے یہ افسانہ اختراع کیا گیا کہ انگریزوں نے مسلمانوں سے جذبہ جہاد سلب کرنے کے لئے اس جماعت کو جنم دیا ہے اور یہ تحریک انگریز کی اٹھائی ہوئی ہے۔اس مضحکہ خیز خیال کی تردید کے لئے ایک غیر از جماعت دوست کا یہ بیان کافی ہے کہ ”جماعت احمدیہ کی شروع