تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 107
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۰۴ جہاد بالسیف) کے التواء کا فتویٰ آزاروں کی دلی انشراح اور محبت سے برداشت کی۔اور ان صابرانہ اور عاجزانہ روشوں سے مخالفوں کی شوخی دن بدن بڑھتی گئی۔۔۔۔تب اس خدا نے جو نہیں چاہتا کہ زمین پر ظلم اور بے رحمی حد سے گزر جائے۔۔اپنی پاک کلام شریف کے ذریعہ سے اپنے مظلوم بندوں کو اطلاع دی کہ۔۔میں تمہیں آج سے مقابلہ کی اجازت دیتا ہوں اور میں خدائے قادر ہوں ظالموں کو بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔یہ حکم تھا جس کا دوسرے لفظوں میں جہاد نام رکھا گیا اور اس حکم کی اصل عبارت جو قرآن شریف میں اب تک موجود ہے یہ ہے۔اذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا ، وأن الله على نصر هم لقدير - ن الذين اخرجوا من ديارهم بغیر حق یعنی خدا نے ان مظلوم لوگوں کی جو قتل کئے جاتے ہیں اور نا حق اپنے وطن سے نکالے گئے فریاد سن لی اور ان کو مقابلہ کی اجازت دی گئی۔اور خدا قادر ہے جو مظلوم کی مدد کرے (الجزء نمبری اسورة الج) مگر یہ حکم مختص الزمان والوقت تھا ہمیشہ کے لئے نہیں تھا بلکہ اس زمانہ کے متعلق تھا جب کہ اسلام میں داخل ہونے والے بکریوں اور بھیڑوں کی طرح ذبح کئے جاتے تھے لیکن افسوس کہ نبوت اور خلافت کے زمانہ کے بعد اس مسئلہ جہاد کے سمجھنے میں جس کی اصل جڑ آیت کریمہ مذکورہ بالا ہے لوگوں نے بڑی بڑی غلطیاں کھائیں۔ناحق مخلوق خدا کو تلوار کے ساتھ ذبح کرنا دین داری کا شعار سمجھا گیا اور مسلمانوں نے انسانوں پر ناحق تلوار چلانے سے بنی نوع کی حق تلفی کی اور اس کا نام جہاد رکھا"۔" یاد رہے کہ مسئلہ جہاد کو جس طرح پر حال کے اسلامی علماء نے جو مولوی کہلاتے ہیں سمجھ رکھا ہے اور جس طرح وہ عوام کے آگے اس مسئلہ کی صورت بیان کرتے ہیں ہر گزرہ صحیح نہیں اور اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ لوگ اپنے پر جوش و عظوں سے عوام وحشی صفات کو ایک درندہ صفت بنا دیں۔۔۔۔۔۔اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ جس قدر ایسے ناحق کے خون ان نادان اور نفسانی انسانوں سے نہوتے ہیں کہ جو اس راز سے بے خبر ہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے اسلام کو اپنے ابتدائی زمانہ میں لڑائیوں کی ضرورت پڑی تھی ان سب کا گناہ ان مولویوں کی گردن پر ہے کہ جو پوشیدہ طور پر ایسے مسئلے سکھاتے رہتے ہیں جن کا نتیجہ دردناک خونریزیاں ہیں۔یہ لوگ جب حکام وقت کو ملتے ہیں تو اس قدر سلام کے لئے جھکتے ہیں کہ گویا سجدہ کرنے کے لئے طیار ہیں۔اور جب اپنے ہم جنسوں کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تو بار بار اصرار ان کا اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ ملک دارالحرب ہے اور اپنے دلوں میں جہاد کرنا فرض سمجھتے ہیں۔" اگر فرض بھی کرلیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاد تھا جیسا کہ ان مولویوں کا خیال ہے تاہم اس زمانہ میں وہ حکم قائم نہیں رہا کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیفی جہاد اور نہ ہی جنگوں کا