تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 108 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 108

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۰۵ جهاد (بالسیف) کے التواء کا فتوئی خاتمہ ہو جائے گا۔ہائے افسوس کیوں یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت کے منہ سے کلمہ يضع الحرب جاری ہو چکا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعود جب آئے گا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا۔جب کہ اس زمانہ میں کوئی شخص مسلمانوں کو مذہب کے لئے قتل نہیں کرتا تو وہ کس حکم سے ناکردہ گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔" ایک ہفتہ بعد حضور نے ۲۸ مئی ۱۹۰۰ ء کو التوائے جہاد کا باقاعدہ فتویٰ اپنی جماعت کو ہدایت دیتے ہوئے اپنی جماعت کو ہدایت فرمائی کہ "ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا کھڑا کیا گیا ہے۔" نیز لکھا۔" مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع کام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔جو بدی کا بدی سے مقابلہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اپنے تئیں شریر کے حملہ سے بچاؤ مگر خود شریرانہ مقابلہ مت کرو۔" فتویٰ جہاد کی وضاحت نظم میں چند دن بعد سے جون ۱۹۰۰ ء کو آپ کی ایک نظم بھی شائع ہوئی جس میں آپ نے اس فتویٰ کا سبب بیان کیا۔اس نظم کے ابتدائی اشعار بطور نمونہ درج ذیل کئے جاتے ہیں۔فرماتے ہیں۔اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے دیں کے تمام جنگوں کا اب انتقام ہے اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتوی فضول ہے کیوں بھولتے ہو تم يضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما چکا ہے سید کونین مصطفیٰ عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التواء حضور نے اس نظم میں مسلمانوں کو نہایت لطیف پیرائے میں جہاں بانی کے حقیقی اصولوں کی طرف وہ علم وہ توجہ دلاتے ہوئے اپنے اندر روحانی انقلاب پیدا کرنے کی تلقین بھی فرمائی۔چنانچہ فرمایا۔اب تم میں خود وہ قوت و طاقت نہیں رہی ده سلطنت دہ رعب وہ شوکت نہیں رہی وہ صلاح وہ عفت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاند کی طلعت نہیں رہی گداز وہ رقت نہیں رہی وہ ورو وہ خلق خدا یه شفقت د رحمت نہیں رہی دل میں تمہارے یار کی الفت نہیں رہی حالت تمہاری جاذب نصرت نہیں رہی سب پر یہ اک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی اک پھوٹ پڑ رہی ہے مورت نہیں رہی۔جہاد بالسیف کی ممانعت محض وقتی اور ہنگامی نوعیت کی تھی جیسا کہ مذکورہ بالا نظم سے بھی واضح