تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 106
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ١٠٣ جہاد بالسیف) کے التواء کا نتونی آپ نے اسے اپنے آقا کی ہدایت سمجھتے ہوئے اور اس پر لفظاً لفظاً تعمیل کرنے کے لئے اول ۲۲ مئی ۱۹۰۰ء کو ایک رسالہ گور نمنٹ انگریزی اور جہاد" کے نام سے شائع کیا جس میں آنحضرت ﷺ کی حديث يضع الحرب كا ذکر کیا اور مسئلہ جہاد پر جامع رنگ میں روشنی ڈالی اور خود قرآن و حدیث سے ثابت کر دکھایا کہ اسلام سے بڑھ کر صلح و امن کا علمبردار کوئی مذہب نہیں ہے۔وہی مذہب ہے جس نے اپنی دعوت کی بنیاد صلح پسندی کے عالمگیر اصولوں پر رکھی ہے اور اوائل اسلام میں جو جنگیں لڑنی پڑیں وہ محض وقتی اور مدافعانہ حیثیت کی تھیں اس لئے موجودہ حکومت میں جب کہ مذہبی آزادی ہے اور مسلمانوں کو مذہب کے نام پر قتل نہیں کیا جاتا تلوار اٹھانا اور ملک میں فساد پھیلانا اسلام کے خلاف ہے۔جہاد کی حقیقت چنانچہ حضور نے تحریر فرمایا: جہاد کے مسئلہ کی فلاسفی اور اس کی اصل حقیقت ایسا ایک پیچیدہ امر اور دقیق نکتہ ہے کہ جس کے نہ سمجھنے کے باعث سے اس زمانہ اور ایسا ہی درمیانی زمانہ کے لوگوں نے بڑی بڑی غلطیاں کھائی ہیں اور ہمیں نہایت شرم زدہ ہو کر قبول کرنا پڑتا ہے کہ ان خطرناک غلطیوں کی وجہ سے اسلام کے مخالفوں کو موقع ملا کہ وہ اسلام جیسے پاک اور مقدس مذہب کو جو سراسر قانون قدرت کا آئینہ اور زندہ خدا کا حلال ظاہر کرنے والا ہے مورد اعتراض ٹھہراتے ہیں۔جاننا چاہیئے کہ جہاد کا لفظ جہد کے لفظ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کوشش کرنا اور پھر مجاز کے طور پر دینی لڑائیوں کے لئے بولا گیا۔۔۔اب ہم اس سوال کا جواب لکھنا چاہتے ہیں کہ اسلام کو جہاد کی کیوں ضرورت پڑی اور جہاد کیا چیز ہے؟ سود اضح ہو کہ اسلام کو پیدا ہوتے ہی بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور تمام قومیں اس کی دشمن ہو گئی تھیں۔۔۔اور انہوں نے درد ناک طریقوں سے اکثر مسلمانوں کو ہلاک کیا اور ایک زمانہ دراز تک جو تیرہ برس کی مدت تھی ان کی طرف سے یہی کارروائی رہی اور نہایت بے رحمی کی طرز سے خدا کے وفادار بندے اور نوع انسان کے نخران شریر درندوں کی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور یتیم بچے اور عاجز اور مسکین عورتیں کوچوں اور گلیوں میں ذبح کئے گئے۔اس پر بھی خدا تعالی کی طرف سے قطعی طور پر یہ تاکید تھی کہ شرکا ہرگز مقابلہ نہ کرو۔چنانچہ ان برگزیدہ راستبازوں نے ایسا ہی کیا۔ان کے خونوں سے کوچے سرخ ہو گئے۔پر انہوں نے دم نہ مارا۔وہ قربانیوں کی طرح ذبح کئے گئے پر انہوں نے آہند کی۔خدا کے پاک اور مقدس رسول کو جس پر زمین اور آسمان سے بے شمار سلام ہیں۔ہار ہا پھر مار مار کر خون سے آلودہ کیا گیا مگر اس صدق استقامت کے پہاڑ نے ان تمام