تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 105 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 105

تاریخ احمد بیت ، جلد ۲ ١٠٢ جہاد بالسیف) کے التواء کا فتویٰ خطر ناک پراپیگنڈہ کر کے مسلمانوں کو قومی حیثیت سے ختم کر دینے کی مہم جاری کر رکھی تھی کہ مسلمان لوگ انگریزی حکومت کے وفادار نہیں اور انگریزوں سے جہاد کرنا واجب قرار دیتے ہیں نیز لکھا ” تمام مسلمان اپنے بغاوت سکھانے والے پیغمبر کی زہر آمیز نصیحتوں کو نہایت ذوق و شوق سے سنتے ہیں۔" پھر لکھا ”ہندوستان کے مسلمان اب بھی ہندوستان میں گورنمنٹ انگریزی کے لئے موجب خطر چلے آتے ہیں۔tt اس قسم کے خیالات کا نتیجہ تھا کہ مسلمانان ہند کے حقوق بے دردی سے پامال ہو رہے تھے اور تعلیم و ملازمت کے دروازے ان پر اکثر و بیشتر ید توں سے بند ہو چکے تھے۔یہ افسوسناک صورت حال دیکھ کر پنجاب میں انجمن اسلامیہ لاہور اور انجمن ہمدردی اسلام نے انگریزی حکومت کو ایک میموریل بھیجوانے کی تحریک اٹھائی۔حضرت اقدس کو جب اس کا علم ہوا تو حضور نے براہین احمدیہ حصہ سوم میں اس کی تائید کرتے ہوئے یہ تجویز بھی رکھی کہ اس تمام تر خرابی کی وجہ ڈاکٹر ہنٹر اور ان جیسے متعصب انگریزوں کے جہاد کے متعلق غلط خیالات ہیں جو بعض سرحدی لوگوں کے (جو غیر مساموں کو بلاوجہ قتل کر دیتے ہیں) ناشائستہ افعال میں تو موجود ہیں مگر اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں نے گورنمنٹ سے اخلاص اور وفاداری کے بڑے اعلیٰ نمونے دکھائے ہیں مگر ڈاکٹر ہنٹر نے ان تمام وفاداریوں اور مخلصانہ خدمات کو یکسر نظر انداز کر کے انصاف و حقیقت کا خون کیا ہے۔پس مسلمانوں کی بہبود و ترقی کے لئے ضروری ہے کہ علماء کے فتووں کو محض انفرادی حیثیت سے چھاپنے کی بجائے مسلمانان ہند کی بڑی بڑی انجمنیں مستند اور مشہور علماء کے قلم سے وسیع پیمانے پر بکثرت یہ وضاحتی بیانات شائع کریں کہ ایسی سلطنت سے لڑائی یا جہاد جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن و عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں قطعی حرام ہے۔اس طریق سے ڈاکٹر سرولیم ہنٹر اور ان جیسے دشمنان اسلام کے پراپیگنڈہ کا اثر زائل کرنے میں بھاری مدد ملے گی اور حکومت انگریزی پر بھی مسلمانوں کی صاف باطنی کھل جائے گی اور بعض حقیقت ناشناس مسلمان جنہیں اسلامی نظریہ جہاد کی واقفیت نہیں صحیح موقف سے آشنا ہو جائیں گے۔رسالہ گور نمنٹ انگریزی اور جہاد" حضرت اقدس علیہ السلام براہین احمدیہ میں اس کی تصنیف اور فتویٰ التوائے جہاد امر پر روشنی ڈال چکے تھے اور حکومت وقت 12 سے اطاعت کے متعلق آپ کا موقف ملک اور حکومت کے سامنے آچکا تھا مگر رسول خدا ﷺ نے چونکہ مسیح موعود کے متعلق پہلے سے یہ خبر دے رکھی تھی " يضع الحرب - یعنی وہ اگر سیفی جہاد اور مذہبی جنگوں کا التواء کر دے گا۔اس لئے A