تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 104 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 104

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ 1-1 جهاد (بالسیف) کے التواء کا فتوی حضور سے ملنا چاہتے ہیں جس پر حضور نے جواب دیا کہ ” مجھے معلوم نہیں کہ کیسا اور کس خیال کا انگریز ہے۔بعض جاسوسی کے عہدے پر ہوتے ہیں اور بعد ملاقات خلاف واقعہ باتیں لکھ کر شائع کرتے ہیں صرف یہ اندیشہ ہے۔" حضرت اقدس کا مسلک مذہبی آزادی دینے والی حکومت کے متعلق اس پالیسی کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلامی تعلیم کی روشنی میں ابتداء ہی سے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ (مذہبی آزادی دینے والی) با قاعدہ قائم شدہ حکومت کے خلاف اس کی حدود میں رہتے ہوئے جہاد بالسیف نہیں کیا جا سکتا۔اس کا مرحلہ ملک سے ہجرت کے بعد آتا ہے اور وہ بھی اس وقت جب کہ حکومت مذہبی آزادی نہ دے اور بزور شمشیر مسلمانوں کو ختم کرنے کی کوشش کرے اور انگریزی حکومت نے تو سکھا شاہی کے ظالمانہ دور کے بعد جس میں محض اسلام کی بناء پر مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور اذان تک کہنے کی ممانعت کر دی گئی تھی مذہبی آزادی دے کر اسلام کی تبلیغ واشاعت کی راہ کھول دی اور اب مسلمان بلا مزاحمت اپنے عقائد حقہ کی اشاعت اور دوسروں کے عقائد باطلہ کی تردید کر سکتے تھے یہی وجہ ہے کہ تیرھویں صدی کے مجدد حضرت سید احمد صاحب بریلوی (۱۷۸۱ - ۱۸۳۱) حضرت مولانا اسمعیل شہید (۱۷۸۱ - ۱۸۳۱) حضرت مولانا عبد الحی صاحب لکھنوی (۱۸۴۸ ۱۸۸۶) اور مفتیان مکہ کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے ہم عصر نامور اور مستند مذہبی دسیاسی مسلم لیڈر مثلا سید نذیر حسین صاحب دہلوی شیخ الکل ۳ (۱۸۰۵ - ۱۹۰۲) نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالوی (۱۸۳۲ - ۱۸۹۰) مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈووکیٹ اہلحدیث (۱۸۳۵ - ۱۹۲۰) سرسید احمد خاں کے۔سی۔ایس بانی علی گڑھ کالج ۳ (۱۸۱۷ - ۱۸۹۸) مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی (۱۸۲۸ - ۱۹۰۵) شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد صاحب (۱۸۳۶۔(۱۹۱۲ نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی ۳ (۱۸۴۶ - ۱۸۹۵) مولوی احمد رضا خاں بریلوی (متوفی ۱۹۲۱ء) اور دوسرے علماء یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ موجودہ انگریزی حکومت کی سیاسی اطاعت فرض اور بغاوت حرام ہے۔۱۱۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہلی دفعہ مسئلہ جہاد کے متعلق ۱۸۸۲ء میں وضاحت اپنے اس نظریہ کے اظہار کی ضرورت ۱۸۸۲ء میں محسوس ہوئی جب کہ ہندوستان کے مشہور تعلیمی کمیشن کے پریذیڈنٹ سرولیم ہنٹر آئی۔سی۔ایس نے اپنی کتاب مسلمانان ہند "The Indian Muslmans" (مطبوعہ (۱۸۷ء) میں یہ