تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 99 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 99

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۹۶ اسلام کی پے در پے فتوحات مسیح کہلا کر ایک خوفناک ہتک اور بے عزتی مسیح کی کی ہے۔مگر ہم کہتے ہیں کہ دو ہزار سال گزرے اسی وجہ پر یہودیوں نے یسوع کو صلیب دی تھی۔اس کے صحیح کہلانے پر انہوں نے ہتک محسوس کی۔اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ بشپ مرزا غلام احمد کے دعوئی مسیحائی کی نسبت یہ لکھتا ہے کہ پنجاب کے مسلمانوں کے ایک کثیر التعداد گروہ نے اس پر حقارت اور استہزاء ظاہر کیا ہے اور وہ اس کو مرزا صاحب کے دعوی کے بطلان کا قطعی اور یقینی ثبوت خیال کرتا ہے۔مگر تعجب ہے کہ جب پیلاطوس نے یہودیوں کے مجمع سے سوال کیا کہ عید فع کے روز کے آزاد کرانا چاہتے ہیں مسیح کو یا برا باس کو تو ان سب نے بالا تفاق بد معاش چور کے حق میں رائے دی۔کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یسوع کا دعوئی مسیحیت بے بنیاد تھا۔ہم مرزا غلام احمد کے پیرو نہیں اور نہ اس کے دعاوی کو مسیح کے دعوؤں پر ترجیح دینا چاہتے ہیں۔لیکن ہمارا اعتراض بشپ کی جھوٹی منطق پر ہے۔اگر تمام مسلمانوں نے مرزا صاحب کا دعوئی مان لیا ہوتا تو کیا بشپ ان کے رسالت کے دعوئی کے متعلق اپنی رائے بدل لیتا۔اس وقت اس ملک کے لوگ اپنے مذہبی خیالات پر بالاستقلال قائم نہیں ہیں اس لئے ایسے لوگوں کے لئے جو ان کو سچائی پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ضروری ہے کہ وہ دلائل ایسے پیش نہ کریں جو نہایت مضبوط اور قاطع نہ ہوں۔" (ترجمہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام عصمت انبیاء کے موضوع پر سلسلہ مضامین نے عیسائیت کے مایہ ناز علم کلام کی فرد مائیگی کو انتہاء تک پہنچانے کے لئے رسالہ ریویو آف ریلیجز B میں "عصمت انبیاء" کے موضوع پر کئی قسطوں میں ایک زبردست مضمون لکھا جس نے بس دن ہی چڑھا دیا اور اور دیگر انبیاء کے مقابل ہر جہت سے آنحضرت ﷺ کے مقام کی افضلیت اور برتری بالکل نمایاں ہو گئی۔نواب عماد الملک فتح نواز جنگ مولوی سید مهدی حسین صاحب کی قادیان میں آمد اور قبول حق لکھنو میں ایک بزرگ نواب عماد الملک سید مهدی حسین صاحب بیرسٹرایٹ لاء ہوتے تھے جو ایک زمانہ میں حیدر آباد کے ہوم سیکرٹری اور چیف جسٹس بھی رہ چکے تھے۔نواب عماد الملک علی گڑھ کالج کے ٹرسٹی اور علوم قدیمہ وجدیدہ کے زیر دست فاضل تھے اور روشن خیال مسلمانوں میں بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے انہوں نے بشپ لیفرائے کے فرار کا واقعہ اخبار پانیر الہ آباد میں