تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 98 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 98

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۹۵ اسلام کی پے در پلے فتوحات شملہ بھاگ گئے تھے اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے میدان مناظرہ میں آنے سے بالکل انکار کر دیا اور اس کے لئے یہ انتہائی مضحکہ خیز عذر پیش کیا کہ مرزا صاحب اپنے تئیں صحیح کہلاتے ہیں جس سے ہمارے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں نیز یہ کہ میرا اصل کام عیسائی کلیسیا کی اندرونی اصلاح اور اس کو مضبوط کرنا ہے۔یہ اصل کام چھوڑ کر میں مجوزہ مباحثہ میں حصہ نہیں لے سکتا وغیرہ وغیرہ۔یہ عذرات ہی بتاتے تھے کہ بشپ صاحب کس بے بسی کے عالم میں میدان مباحثہ سے فرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔" بشپ صاحب کے فرار پر ملکی اخبارات کا تبصرہ عیسائیوں کی سرگرمیوں سے پوچتا ہے کہ وہ بہت جلد پورے ہندوستان کو زیر نگیں کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔مگر خدا کی قدرت !! انیسویں صدی ختم نہیں ہوئی کہ کا سر صلیب کے ہاتھوں اسلام کو عیسائیت کے مقابل زبر دست اور نمایاں فتح حاصل ہو گئی۔اس معرکہ نے تثلیث پرستوں کے حوصلے انتہائی پست کر ڈالے اور پھر آج تک کسی بشپ کو جرات نہ ہو سکی کہ وہ بر ملا مسلمانوں کو گزشتہ انداز میں بحث کا چیلنج دے سکے بلکہ اس کے بر عکس یہ تبدیلی رونما ہوئی کہ دوران گفتگو جو نہی پادریوں کو معلوم ہو تاکہ ان کا مخاطب کوئی احمدی ہے تو وہ بحث بند کر دیتے اپنا کیمپ اکھاڑ کر دوسری طرف چل دیتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو خفیہ طور پر کوئی ایسے احکام ضرور جاری کئے گئے ہیں کہ وہ احمدیوں سے ہر گز گفتگو نہ کریں۔المختصر عیسائیت کے ایک نامور نمائندے کا یوں بے بسی کے ساتھ میدان چھوڑنے سے ملک کے چاروں طرف ایک شور سانچ گیا اور ملکی اخبارات نے کھلے لفظوں میں لارڈ بشپ کے گریز کو عیسائیت کی بھاری شکست سے تعبیر کیا۔انڈین سیکٹیٹر کی طرف سے بشپ کے گریز پر تبصرہ انڈین et سپیکٹیٹر نے بشپ کے انکار پر لکھا۔معلوم ہوتا ہے کہ لاہور کے بشپ نے متانت کو چھوڑ کر جلد بازی کے ساتھ ایک ایسے چیلنج سے گریز اختیار کی ہے جس کا محرک وہ پہلے خود ہی ہوا تھا کچھ عرصہ ہوا کہ بشپ نے مسلمان حاضرین کے سامنے مسیح کی صداقت کا ثبوت پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس دعوت کو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جس کے دعوئی مسیحیت کی نسبت ہم پیشتر از میں اسی اخبار میں ذکر کر چکے ہیں قبول کر لیا۔اب خواہ مرزا غلام احمد مفتری ہو اور خواہ وہ اپنے آپ کو واقعی مسیح موعود سمجھتا ہو دونو حالتوں میں کوئی وجہ نہیں کہ بشپ اس کے ساتھ مباحثہ کرنے سے کیوں انکار کرتا ہے۔بشپ کا بیان ہے کہ مرزا صاحب نے