تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 100 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 100

تاریخ احمدیت جلد ۲ 94 اسلام کی پے در پے فتوحات پڑھا تو ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کا شوق دامن گیر ہو گیا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ کوئی معمولی انسان نہیں ہو سکتا جو اتنے بڑے آدمی کو ایک فوق العادت دعوت دیتا ہے اور اس کی غلامی میں بڑے عقیل و نیم داخل ہیں۔اس کے بعد انہوں نے مولوی عبد الکریم صاحب کی مصنفہ کتاب "مسيرة مسیح موعود " کا مطالعہ کیا اور گرویدہ ہو گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مولوی صاحب سے خط و کتابت شروع کر دی۔اسی دوران میں ان کی لکھنو میں (جہاں وکالت کرتے تھے) حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن سے ملاقات ہوئی جس کے بعد ۲۶ / دسمبر ۱۹۰۱ء کو حضور کی خدمت میں قادیان پہنچے اور حضور کے نیاز حاصل کر کے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ موقعہ غنیمت سمجھتے ہوئے ان کو نہایت شرح و بسط سے پیغام حق پہنچایا اور بتایا کہ خدا نے مجھے صرف اس غرض سے بھیجا ہے تا میں ادیان عالم پر اسلام کو غالب کر دکھاؤں۔میں اسی طرح مامور ہوں جس طرح پہلے مامور تھے۔پس آپ میری مخالفت میں بھی بہت سی باتیں سنیں گے اور بہت قسم کے منصوبے پائیں گے لیکن میرا خدا میرے ساتھ ہے۔اور اگر میں خدا کی طرف سے آیا نہ ہو تا تو میری یہ مخالفت بھی ہر گز نہ ہوتی۔حضرت اقدس کے ارشادات سن کر ان کے تمام شکوک رفع ہو گئے۔حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کا بیان ہے کہ نواب صاحب سے سید عبد اللہ صاحب بغدادی نے دریافت کیا کہ حضور انور کو کیسا پایا۔تو انہوں نے عربی زبان میں جواب دیا۔کہ آپ نبیوں جیسے اور آپ کا کام نبیوں جیسا ہے اور لاریب صادق ہیں۔چونکہ نواب صاحب کو " آل انڈیا محمڈن ایجو کیشنل کانفرنس میں شامل ہو نا تھا اس لئے جلد واپس تشریف لے گئے۔قادیان سے جانے کے بعد ان کی سلسلہ سے ارادت و عقیدت روز بروز بڑھتی گئی۔وہ قومی تحریکوں میں باقاعدہ شریک ہوتے۔حضرت اقدس اور الحکم سے ان کو خاص الفت تھی۔انہیں قادیان میں آنے کی بار بار تڑپ پیدا ہوتی تھی اور وہ بارہا اس موقعہ کی تلاش میں بھی رہے مگر افسوس زندگی نے وفا نہ کی اور آپ ۱۳/ جنوری ۱۹۰۴ء کو بمقام لکھنو انتقال فرما گئے۔