تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 96 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 96

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۹۳ اسلام کی پے در پے فتوحات اور موازنہ کیا جائے یعنی یہ دکھلایا جائے کہ ان تمام امور میں کس کی فضلیت اور فوقیت ثابت ہوتی ہے۔پس اس قسم کی صفات فاضلہ میں مقابلہ ہونا چاہیے نہ صرف ترک شر میں جس کا نام بشپ صاحب معصومیت رکھتے ہیں۔بشپ لیفر ائے نے جو دو دفعہ اسلام کے مقابلہ میں صریح شکست اٹھا چکے تھے حضرت اقدس کی دعوت پر بالکل چپ سادھ لی۔اس پر حضرت اقدس نے بشپ صاحب کو اس علمی مقابلہ پر آمادہ کرنے کے لئے جماعت کے دوستوں کی ایک کمیٹی بنائی جس کے سیکرٹری مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے تجویز ہوئے۔اس کمیٹی کی طرف سے ۱۸ جون ۱۹۰۰ ء کو حضرت مسیح کے نام کا واسطہ دے کر بشپ لیفرائے صاحب کو لکھا گیا کہ وہ عیسائی مذہب کے زبر دست فاضل ہیں اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اسلام کے بے مثال نمائندے ہیں اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں یہ قیمتی موقع میسر آیا ہے کہ آپ بھی موجود ہیں اور وہ بھی۔مرزا صاحب نے بحث کی جملہ شرائط منظور کرلی ہیں۔آپ بھی ہماری التجاء قبول کر کے منظوری سے مطلع فرمائیں۔مسلمان پہلے ہی انتہائی بے قراری سے بشپ صاحب کی منظوری کے لئے چشم براہ تھے۔اب جو یہ دلچسپ مراسلہ پریس میں آیا تو ملک کے بعض مقتدر اخبارات نے بھی اس کا زبر دست خیر مقدم کیا اور پر زور تحریک کی کہ بشپ صاحب کو اس طرف ضرور توجہ کرنا چاہیے۔اور اخبار پا نیرالہ آباد نے لکھا که " بے شک اگر ڈاکٹر لیفر ائے مقابلہ کرنا منظور کرے تو یہ مباحثہ نہایت ہی دلچسپ ہو گا۔" انڈین ڈیلی ٹیلی گراف (۱۹۔جون ۱۹۰۰ء) نے لکھا:۔ہم کسی دوسرے صفحہ پر ایک نہایت ہی دلچسپ مذہبی چیلنج جو مسلمانوں کے اس فرقہ کی طرف سے ہے جو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے پیرو ہیں لاہور کے بشپ کے نام دیا گیا ہے نقل کرتے ہیں۔اس کی دلچسپی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نہایت سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی قادیان کے رئیس ہیں۔اور اس چیلنج میں ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف مسیح موعود ہونے کا دعوی ہی کرتے ہیں بلکہ اس دعوئی کو مضبوط اور قاطع دلیلوں کے ساتھ ثابت کر دکھایا ہے اور اپنے آپ کو وہ موعود ثابت کیا ہے جس کے آنے کی پیشگوئیاں قرآن مجید اور بائبل میں بیان کی گئی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس مشہور شخص کے پیرو دنیا کے مختلف حصوں میں تمہیں ہزار کے قریب ہیں اور ان کے دوست اور مرید دل سے چاہتے ہیں کہ وہ لاہور کے بشپ کے ساتھ جس کے لیکچروں نے مسلمانوں کو قائل کر دیا ہے کہ وہ اپنے مذہبی علوم میں لاثانی ہے مذہب اسلام اور عیسائیت کی سچائی پر ایک