تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 97 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 97

تاریخ احمدیت جلد ؟ ۹۴ اسلام کی پے در پے فتوحات فاضلانہ اور معقول بحث کریں۔بشپ کا وسیع علم اور تجربہ اور اس کی عربی ، فارسی اور اردو سے واقفیت اور اس کے مہذبانہ اور عمدہ اخلاق بھی بطور وجوہات بیان کئے گئے ہیں کہ کیوں خصوصاً اس کو اسلام کے اس پہلوان کے ساتھ مباحثہ کے لئے بلایا گیا۔چیلنج سارے کا سار ا نہایت مودبانہ الفاظ میں ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس تجویز کے مجوز بڑی کچی خواہش اس امر کی رکھتے ہیں کہ عیسائیت اور اسلام (نہ اسلام اور عیسائیت) کے بالمقابل فضائل اور خوبیوں پر ایک باقاعدہ اور عمدہ مباحثہ ہو جس میں دو نو فریق کے لئے منصفانہ شرطیں پیش کی گئی ہیں اور چیلنج دینے والے جن کی تعداد بہت بڑی ہے ہندوستان کے مختلف حصوں سے ہیں اور بشپ کو یسوع مسیح کے نام کی قسم دے کر امید رکھتے ہیں کہ اس مباحثہ پر رضامند ہو جائے گا۔ہماری رائے ہے کہ بشپ اگر اس چیلنج کو منظور کرے تو بہت اچھا ہو گا۔خود بخود ایک ایسی بڑائی اختیار کر لینا جو مباحثہ کے لئے بھی جھک نہیں سکتی اس کی غلطی ہو گی۔کیونکہ پھر چیلنج دینے والے یہ کہنے کے حقدار ہوں گے کہ چونکہ فریق ثانی نے اپنے مقدمہ کا دفاع نہیں کیا اس لئے اس کی عدم پیروی کے سبب سے فیصلہ ان کے حق میں ہونا چاہئے اور اس طرح پر وہ فتح کے دعویدار ہوں گے۔نیز یہ امر کہ مرزا غلام احمد قادیانی وہ موعود شخص نہیں ہے جس کی آمد کے متعلق قرآن شریف اور بائبل میں پیشگوئیاں ہیں بشپ کے مقابلہ کرنے سے انکار کے لئے کوئی دلیل نہیں۔یہ سوال مجوزہ مباحثہ میں پیش نہیں ہو گا لیکن ممکن ہے کہ اگر بشپ چیلنج منظور کرے تو اپنے مخالف کو اس غلطی کا بھی قائل کر دے۔یہ امر کہ مسلمان اپنے مسیح کو بشپ کے بالمقابل میدان مباحثہ میں پیش کرتے ہیں۔یہ بشپ کی علمیت کی بڑی سے بڑی توہین ہے جو وہ کر سکتے ہیں۔اس طرح پر وہ جتانا چاہتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں بشپ کو عیسائی مذہب کا اول درجہ کا ناضل مانتے ہیں۔ہم یہ بھی نہیں دیکھتے کہ بشپ کس طرح یہ عذر کر سکتا ہے کہ ایسے عمدہ مباحثہ میں اس کے وقت کا بڑا حصہ صرف ہو جائے گا۔اس کو کسی طرح پر بھی ایسے مخالفوں کی تردید کرنے اور ان کو قائل کرنے کا یہ موقع ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے خصوصا جب کہ اس سے یہ بات ثابت کرنے کی خواہش کی گئی ہے کہ عیسائیت اور اسلام ہر دو مذاہب میں سے کو نسا نہ ہب زندہ کہلا سکتا ہے اور قرآن مجید اور بائبل دو نو کی تعلیمات میں سے کس کی تعلیم زیادہ افضل اور انسانی فطرت کے مطابق ہے۔ہم پسند کریں گے اگر چیلنج منظور کر لیا جائے۔کیونکہ ہمارے خیال میں یہ نہایت ہی دلچسپ ہو گا۔" غرض یہ کہ ملک کے سبھی حلقوں کی نگاہیں بشپ صاحب کی طرف تھیں اور وہ انتہائی بے تابی سے ان کی منظوری کا اعلان سننے کے لئے منتظر تھے مگر افسوس بشپ صاحب نے جو لیکچر کے بعد لاہور سے