تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 95
تاریخ احمد بیت جلد ۲ ۹۲ اسلام کی پے در پے فتوحات لائے اور طلباء کو اس کی کاپیاں تہہ کرنے کے لئے اٹھایا چنانچہ انہوں نے ساری رات جاگ کر نہایت خلوص سے یہ دینی خدمت، سرانجام دی۔مفتی صاحب چار بجے صبح اشتہار لے کر بٹالہ روانہ ہوئے اور عین وقت پر لاہور جلسہ میں پہنچ گئے۔حضرت اقدس کا مضمون سنایا جانا اشتہار کے مطابق بشپ لیفرائے نے " زندہ رسول " پر تقریر کی۔اس کے بعد سوالات کا موقعہ دیا جس پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کا مطبوعہ مضمون نهایت پر شوکت انداز میں پڑھ کر سنایا۔اس مضمون کی ایک بھاری خصوصیت یہ تھی کہ اگر چہ یہ ایک دن پہلے لکھا گیا تھا مگر اس میں بشپ صاحب کی تقریر کا مسکت جواب موجود تھا اور لوگ حیران تھے کہ بشپ صاحب کی تقریر کے خاتمہ پر امتاز بر دست مضمون آنانا: جھپ کر شائع کیسے ہو گیا؟ مضمون کا پڑھنا ہی تھا کہ لاہور ایک بار پھر اسلام کی فتح کے نعروں سے گونج اٹھا اور بشپ صاحب کو جو گزشتہ داغ مٹانے کے خیال سے آئے تھے ایسی زبر دست شکست ہوئی کہ چہرے سے ہوائیاں اڑنے لگیں اور انہوں نے صرف یہ کہہ کر چپ سادھ لی کہ " معلوم ہوتا ہے تم مرزائی ہو ہم تم سے گفتگو نہیں کرتے ہمارے مخاطب عام مسلمان ہیں۔" اس وقت تین ہزار کے قریب مجمع تھا۔مسلمانوں نے جو ایک کثیر تعداد میں موجود تھے بالاتفاق اقرار کیا کہ مرزائی اگرچہ کافر ہیں مگر آج اسلام کی عزت انہی نے رکھ دکھائی ہے۔حضرت مسیح موعود کی طرف سے " سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زندہ نبی پر "۔مضمون لکھنے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ بشپ نبی کے متعلق مقابلہ کی کھلی دعوت صاحب کے گزشتہ لیکچر کا پورا پورا تعاقب کرتے ہوئے ۲۵ / مئی ۱۹۰۰ ء کو ہی ایک دوسرا اشتہار دیا کہ بشپ صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر مسلمان اپنے نبی ﷺ کا معصوم ہونا ثابت کر کے دکھا ئیں۔یہ ایک عمدہ ارادہ ہے مگر بشپ صاحب کے اس طریق بحث سے کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں ہو گا کہ پبلک کو یہ دکھایا جائے کہ فلاں نبی نے کوئی گناہ نہیں کیا کیونکہ مذاہب کا گناہوں کی تحسین پر اتفاق نہیں ہے۔بعض فرقے شراب نوشی کو سخت گناہ قرار دیتے ہیں مگر بعض کے عقیدہ کے موافق اس میں روٹی بھگو کر نہ کھائی جائے تو دینداری کی سند نہیں حاصل ہو سکتی۔بنا بریں حضور نے نے انہیں توجہ دلائی کہ اگر وہ مرد میدان بن کر تحقیق حق کے شائق ہیں تو وہ " معصوم نبی " کا موضوع اختیار کرنے کی بجائے اس بارے میں بحث کر لیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا علمی اور عملی اور اخلاقی اور نقدی اور برکاتی اور تاثیراتی اور ایمانی اور عرفانی اور افاضہ خیر اور طریق معاشرت وغیرہ وجوہ فضائل میں باہم مقابلہ