تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 88
۸۵ جدی بھائیوں کی طرف سے الدار کا محا دعاؤں کی قبولیت حضرت اقدس نے عید سے ایک روز قبل حضرت مولوی نور الدین صاحب کو لکھا تھا کہ جتنے دوست یہاں موجود ہیں ان کی فہرست بھجوا دیں تاکہ میں ان کے لئے دعا کر دوں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب موصوف نے مدرسہ احمدیہ کے صحن میں (جو اس وقت ہائی سکول تھا، لوگوں کو جمع کیا اور ایک کاغذ پر سب دوستوں کے نام لکھوائے اور حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچا دیئے اور حضور بیت الدعا میں سارا دن دروازے بند کر کے مصروف دعا رہے۔حضور نے خطبہ ختم کرنے کے بعد اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دراصل کل عرفہ کے دن اور عید کی رات میں جو میں نے دعائیں کی ہیں ان کی قبولیت کے لئے یہ خطبہ بطور نشان رکھا گیا تھا۔یعنی اگر میں یہ خطبہ عربی زبان میں ارتجالاً پڑھ گیا تو ساری دعائیں درگاہ الہی میں قبول ہو گئیں۔اردو میں ترجمہ حضور کے اعجازی خطبہ کے بعد حضرت مولوی عبد الکریم صاحب دوستوں کی درخواست پر خطبہ کا ترجمہ منانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ایک زبان کے خیالات دو سری زبان میں منتقل کرنا ایک نہایت مشکل امر ہے مگر روح القدس کی تائید سے آپ نے اس فرض کو اس خوبی سے ادا کیا کہ ہر شخص عش عش کر اٹھا۔مولوی صاحب موصوف ابھی اردو ترجمہ سنا ہی رہے تھے کہ حضرت اقدس فرط جوش کے ساتھ سجدہ شکر میں گر گئے۔آپ کے ساتھ حاضرین نے بھی سجدہ شکر ادا کیا۔سجدہ سے سر اٹھا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ابھی میں نے سرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ مبارک یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔" خطبہ کو حفظ کرنے کی تحریک خطبہ چونکہ ایک زبر دست علمی نشان تھا اس لئے اس کی خاص اہمیت کے پیش نظر حضرت مسیح موعود نے اپنے خدام میں تحریک فرمائی کہ اسے حفظ کیا جائے۔چنانچہ اس کی تعمیل میں صوفی غلام محمد صاحب، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے علاوہ بعض اور اصحاب نے اسے زبانی یاد کیا۔بلکہ موخر الذکر دو اصحاب نے مسجد مبارک کی چھت پر مغرب و عشاء کے درمیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بھی اسے زبانی سنایا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو انتہا درجہ ادبی ذوق رکھتے تھے وہ تو اس خطبہ کے اتنے عاشق تھے کہ اکثر اسے سناتے رہتے تھے اور اس کی بعض عبارتوں پر تو وہ ہمیشہ وجد میں آجاتے۔مولوی صاحب ایسے باند پایہ عالم کو خطبہ الہامیہ کے اعجازی کلام پر وجد آنا ایک طبعی بات قرار دی جاسکتی ہے مگر خدا کی طرف سے ایک تعجب انگیز امریہ پیدا ہوا کہ تقریر سننے والے بچے بھی اس کی جذب رکشش سے خالی نہیں تھے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح