تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 89
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ 14 جدمی بھائیوں کی طرف سے الدار کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا بیان ہے کہ وہ دن جس میں یہ تقریر کی گئی ابھی ڈوبا نہیں تھا کہ چھوٹے چھوٹے بچے جن کی عمر بارہ سال سے بھی کم تھی اس کے فقرے قادیان کے گلی کوچوں میں دہراتے پھرتے تھے جو ایک غیر معمولی بات تھی۔خطبہ الہامیہ کی اشاعت یہ خطبہ اگست ۱۹۰۱ ء میں شائع ہوا۔حضور نے نہایت اہتمام سے اسے کاتب سے لکھوایا۔فارسی اور اردو میں ترجمہ بھی خود کیا اور اعراب بھی خود لگائے۔اصل خطبہ کتاب کے اڑتیسویں صفحہ پر ختم ہو جاتا ہے جو کتاب کے باب اول کے تحت درج ہے۔اگلا حصہ آخر تک عام تصنیف ہے جس کا اضافہ حضور نے بعد میں فرمایا اور پوری کتاب کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا۔یہ کتاب شائع ہوئی تو بڑے بڑے عربی دان اس کی بے نظیر زبان اور عظیم الشان حقائق و معارف پڑھ کر دنگ رہ گئے حق تو یہ ہے کہ مسیح محمدی کا یہ وہ علمی نشان ہے جس کی نظیر قرآن مجید کے بعد نہیں ملتی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ خطبہ الہامیہ کے متعلق ایک وضاحت تعالٰی کی اس خطبہ کے متعلق رائے یہ ہے کہ te " خطبہ الہامیہ سے یہ مراد نہیں کہ اس خطبہ کا لفظ لفظ الہام ہوا بلکہ یہ کہ وہ خدا کی خاص نصرت کے ماتحت پڑھا گیا اور بعض بعض الفاظ الہام بھی ہوئے۔" : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طرز عمل سے بھی اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کیونکہ حضور نے اپنے الہامات میں خطبہ الہامیہ کے ابتدائی باب کو کہیں شامل نہیں فرمایا۔