تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 71 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 71

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ Ча حقیقة المهدی" کی تصنیف و اشاعت کوئی معضرت نہیں ہے۔دراصل علت نہی شرک و اصنام پرستی تھی۔اگر یہ علمت باقی نہ رہے تو کیوں تصویر ممنوع ہو۔؟" ار ساله چشمین سالگرہ نمبر ۱۹۹۶ء ( صفحه ۱۵-۱۶) ۰۳۲ الحکم ۱۰/ اگست ۱۸۹۹ء صفحه ۹ کالم نمبر ۳ ۲۳ تمجید الا زبان مارچ ۱۹۱۳ء صفحه ۴۱-۴۶ الحکم ۳۱/ جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۶ کالم نمبر ۳۲ ۲۵ تریاق القلوب طبع اول صفحہ ۲۲ ۲۳ تریاق القلوب طبع اول صفحه ۱۳ ۲۷ تریاق القلوب صفحه ۲۰ ۲۸ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو حقیقتہ النبوۃ طبع اول صفحه ۲۳-۳۱ از حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده الله تعالی ۲۹ تبلیغ رسالت جلد هشتم صفحه ۶۰ ۳۰۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد دوم طبع دوم صفحہ ۴۱ ۳۱- الحکم ۱۳۱ اگست ۱۸۹۹ء صفحه ۵ کالم را ۳۲- کتاب صحیح ہندوستان صفحه ۱۳ ۱۰۵ ۳۳ ولادت ۷ ۱۸۴ ء وفات ۲ ستمبر ۱۹۴۲ء ۳۴۔حضرت مولانا عبد الکریم صاحب لکھتے ہیں کہ اس اطلاع سے حضرت اقدس اس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا اللہ تعالی گواہ اور علیم ہے کہ اگر مجھے کوئی کروڑوں روپے لادیتا تو میں اتنا خوش نہ ہو تا را حکم ۱۰ جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۳ کالم نمیر) ۳۵ اشتهار ۴ اکتوبر ۱۶۱۸۹۹ تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحه ۷۳-۷۲) تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحه ۷۴ حاشیہ آپ اس وقت حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے ہاں مالیر کوٹلہ میں بطور اتالیق مقیم تھے۔۳۸ - الحکم ۷ ادارج ۱۹۰۵ء صفحہ ۵ کالم ۴ ۳۹ تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحه ۷۶ صاحب کے ہالہ تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحہ ۷۴ (حاشیہ) اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۴۵۷ میں لکھا ہے کہ مرزا خدابخش صاحب کے اخراجات سفر برداشت کرنے کی پیشکش کرنے والے باہمت مخلص سے مراد حضرت نواب محمد علی خاں صاحب تھے یہ صحیح نہیں کیونکہ ۱۱۴ اکتوبر کے اشتہار کے حاشیہ میں حضرت نے اس کی تعین خود فرما دی ہے کہ یہ حضرت مولوی نور الدین صاحب ہیں۔ال اصحاب احمد جلد ۲ صفحه ۴۵۷ نام سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منشی عبد العزیز صاحب او جلوی ، میاں جمال الدین صاحب، میاب امام الدین صاحب اور میاں خیر الدین صاحب کے چندہ کا ذکر کرتے ہوئے " اشتہار جلسہ الوداع " مشموله تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحه ۷۲) میں تعریفی کلمات ارشاد فرمائے چنانچہ لکھا کہ ان چاروں صاحبوں کے چندہ کا معاملہ نہایت عجیب اور قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں۔گویا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح جو کچھ گھروں میں تھا وہ سب لے آئے ہیں۔اور دین کو آخرت پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی۔" ۴۳ تبلیغ رسالت جلد ۸ صفحه ۷۷ ذکر حبیب صفحہ ۵۹ حقیقته النبوة صفحه ۲-۲۵ طبع دوم از حضرت خلیفہ المحی الثانی ایده الله تعالی ۴۵۔اس کا ذکر آگے آئے گا الحکم ۱۰/ نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۴۔( مفصل ۱۹۰۱ء کے حالات میں) ۴۷- ۱۳۵۱ھ بمطابق ۳۶-۱۸۳۵ء بمقام یاد گیر پیدا ہوئے ۱۸۹۹ء میں قادیان جا کر حضور اقدس کے دست مبارک پر بیعت کی۔قبول احمدیت کے بعد ان میں ایک خاص روحانی انقلاب پیدا ہو گیا پہلے نماز تک کی عادت نہ تھی اب تہجد گزار بن گئے اور الہامات و