تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 70
تاریخ احمدیت - جلد ؟ حقیقته المهدی" کی تصنیف و اشاعت ۱۸ ۱۰ / الحکم ۳/ جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰ کالم الحکم ۱۰ اگست ۱۸۹۹ء صفحہ ا براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۹۴ ذکر حبیب صفحه ۳۷۲-۳۷۴ از حضرت مفتی محمد صادق صاحب ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ ۳۷۴ میرة المهدی حصہ دوم صفحہ ے ے البدر ۵/ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۹ کالم الفضل ۳- ۱ ستمبر ۱۹۴۲ء صفحہ ۳ کالم ۲ - ۳ بدر ۱۳ مئی ۱۹۰۹ء صفحہ ۲ کالم الحکم ۱۲۴ مئی ۱۹۰۳ء کالم -• نمبر ۲ الفضل ۲۶/ اگست ۱۹۱۵ء صفحه ۵ کالم نمبر ۳ ضمیمه بر امین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۹۵ طبع اول ۲۱- حضرت اقدس کی ان تشریحات کے باوجود علماء وقت کی طرف سے حضور کے فوٹو کھچوانے پر بہت شور مخالفت اٹھا نگر بالا خرا نہیں نہ صرف قولی لحاظ سے بلکہ عملی لحاظ سے بھی حضور کے مسلک دربارہ تصویر سے اصولاً اتفاق کرنا پڑا۔-1- چنانچہ 1919ء میں سید سلیمان صاحب ندوی نے رسالہ "معارف میں ایک مضبوط مضمون مجسمہ اور تصویر کے متعلق اسلام کا شرعی حکم لکھا جس میں بتایا کہ موجودہ دنیا کے اسلام کے تمام روشن خیال علماء کی (بشر طیکہ روشن خیالی منصب افتاء کے خلاف نہ ہو) رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ فوٹو گرافی مصوری نہیں ہے اور نہ فوٹو پر تصویر کا اطلاق ہو سکتا ہے۔یہی سبب ہے کہ مصرو مراکش و ایران و قسطنطنیہ کے تمام اکابر ارباب تمام ہم کاغذی پیراہنوں میں ہندوستان میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔نو نو گرانی در حقیقت عکاسی ہے۔جس طرح آئینہ پانی اور دیگر شفاف چیزوں پر صورت کا عکس اتر آتا ہے اور اس کو کوئی گناہ نہیں سمجھتا ای طرح فوٹو کے شیشہ پر مقابل صورت کا عکس اتر آتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ آئینہ وغیرہ کا عکس پاکدار اور قائم نہیں رہتا اور فوٹو کا عکس مسالہ لگا کر قائم کر لیا جاتا ہے۔ورنہ فوٹوگرافر مصور کی طرح اعضاء کی تخلیق و تکوین نہیں کرتا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فوٹو عبادت کے کام میں نہیں آتے۔" ( معارف اکتوبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۲۷۴) 11- حال کے ایک مشہور عالم کا فتویٰ فوٹو کے بارے میں یہ ہے کہ ”جہار، تصویر لینے کا کوئی حقیقی تمدنی فائدہ ہو یا جب کہ تصویر کسی بڑی تمدنی مصلحت کے لئے ناگریز ہو تو صرف اس غرض کو پورا کرنے کی حد تک یہ فضل جائز ہو گا مثلاً پاسپورٹ پولیس کا جرموں کی شناخت کے لئے تصویریں محفوظ کرنا ڈاکٹروں کا علاج کے لئے یا فن طب کی تعلیم کے لئے مریضوں کی تصویر میں لینا اور جنگی اغراض کے لئے فوٹو گرافی کا استعمال یہ اور اسی نوعیت کے دوسرے استعمالات حکم عام سے مستقلی قرار پائیں گے بشرطیکہ وہ فرض جس کے لئے اس استثناء سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہو خود حال ہو۔" " اصول فقہ کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ الضرورات تبيح المحظورات یعنی حقیقی ضروریات کے لئے وہ چیزیں جائز ہو جاتی ہیں جو بجائے خود نا جائز ہوں۔" رسائل و مسائل حصہ اول صفحه ۱۵۴-۱۵۵- از سید ابو الاعلی صاحب مودودی بانی جماعت اسلامی- ناشر اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ ۱۳- ای شاه عالم مارکیٹ لاہور جنوری ۱۹۹۳ء) iii۔غلام احمد صاحب پرویز مدیر طلوع اسلام " لکھتے ہیں۔جہاں تک تصویر کشی کا تعلق ہے قرآن میں بصراحت مذکور ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بڑے بڑے نادرہ کا رضاعوں سے تماثیل تیار کرایا کرتے تھے اور تماثیل کے اندر تصاویر اور مجتمے دونوں آجاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ جس امر کو قرآن کریم ایک نبی کا عمل کہہ کر اس کا ذکر کرتا ہے اس کے خلاف کچھ نہیں کہتا تو وہ عمل کبھی نا جائز نہیں ہو سکتا۔" (رسالہ طلوع اسلام کراچی ۲۳ جولائی ۱۹۵۵ء) v مولوی سید محمد جعفر شاہ صاحب پھلواری لکھتے ہیں۔" تصویر خواہ انسان کی ہو یا درخت اور پہاڑ کی۔مجسمہ ہو یا منقوشہ ان دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں۔فیصلہ اس مقصد سے ہو گا جو تصویر کشی اور تصویر سازی سے قائم کیا جائے۔اگر پوجا کار جان ہو تو گائے اور پیپل اور گنگا کی تصویر بھی ناجائز ہے اور اگر یہ نہ ہو تو تصویر محض ایک آرٹ ہے خواہ وہ انسان ہی کی کیوں نہ ہو۔اسی طرح اخلاق سوزی یا کوئی اور گرا ہوا مقصد پیش نظر ہو تو خواہ اسلحہ خانہ کی تصویر ہونا جائز ہوگی اور مقصد بلند ہو تو سینہ زن کی عکاسی بھی روا ہو گی۔(رسالہ چٹان اہورا اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۸ کالم نمبر)۔مولانا ابو الکلام صاحب آزاد نے لکھا۔" تصویر و تمائیل کی ممانعت کو بھی اسی سلسلہ میں لانا چاہیے جس سلسلے میں تمام ایسی چیزوں کو روک دیا گیا ہے جو کو خود کوئی برائی نہیں رکھتیں لیکن برائیوں کا وسیلہ و مقدمہ ہیں۔جس طرح عورتوں کو زیارت قبور سے روکا اور جس طرح مداحوں کی نسبت وعید آئی ٹھیک اسی طرح تصویر سازی کو بھی ممنوع قرار دیا فی نفسہ تصویر بنانے میں