تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 172
تاریخ احمدیت۔جلدا براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت کی تعین کی جاتی ہے اسی طرح دنیا بھر کو یہ کتاب کعبتہ اللہ کے روحانی پیکر اسلام کی طرف راہ نمائی کرنے کا موجب بنے گی۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس مایہ ناز تصنیف کے دلائل و براہین کے ناقابل تردید اور اٹل ہونے پر اس درجہ یقین اور ایمان تھا کہ ۱۸۸۰ء میں جب اس کتاب کا پہلا حصہ شائع ہوا تو اس میں آپ نے مذاہب عالم کو دس ہزار روپیہ کا انعامی چیلنج دیتے ہوئے یہ پر شوکت اعلان فرمایا کہ جو شخص حقیقت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے ان دلا کل کا جو قرآن مجید سے اخذ کر کے پیش فرمائے ہیں اپنی الہامی کتاب میں آدھایا تھائی یا چوتھائی یا پانچواں حصہ ہی نکال کر دکھلائے۔یا اگر بکلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو حضور ہی کے دلائل کو نمبر وار توڑ دے تو آپ بلا تامل اپنی دس ہزار کی جائیداد اس کے حوالہ کر دیں گے۔بشرطیکہ تین جوں پر مشتمل مسلمہ بورڈ یہ فیصلہ دے کہ شرائط کے مطابق جواب تحریر کر دیا گیا ہے۔واقعاتی لحاظ سے بھی براہین احمدیہ ہر جہت سے قطبی ثابت ہوئی اور غیر مذاہب کے مقابل اسلام کی ترقی و سرفرازی کا موجب بنی۔براہین احمدیہ سے قبل کفر و الحاد کا سیلاب جو نہایت تیزی سے بڑھ رہا تھا اس کے منصہ شہود پر آتے ہی یکسر پلٹ گیا اور عیسائیت کا وہ فولادی قلعہ جس کی پشت پناہی ۱۸۵۷ء کے بعد حکومت کی پوری مشینری کر رہی تھی پاش پاش ہو گیا۔اور ہمیں یقین ہے کہ مستقبل میں اسلام کی طرف سے کفر کے خلاف آخری جو روحانی جنگ ہونے والی ہے وہ انہی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی جو براہین احمدیہ کے روحانی اسلحہ خانہ میں پہلے سے موجود ہیں۔اور بالا خراسی قطب ستارہ کی قیادت میں دنیا کا قافلہ اسلام کی طرف روانہ ہو گا۔اور اس طرح کشف مذکورہ کا وہ حصہ بھی پورا ہو جائے گا۔جس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی آپ کے ہاتھ سے دین مصطفیٰ کو پھر سے شان و شوکت بخشے گا اور دائمی غلبہ عطا کرے گا۔مشہور برطانوی مورخ پروفیسر آرنلڈ ٹوئن کی اپنے لیکچر " دور حاضر کا چیلنج" (The Challang of our era) میں کہتے ہیں۔” وہ وقت قریب آرہا ہے جب دہریت عنقا ہو جائے گی اور تمام دنیا پھر نہ ہی بھیس میں جلوہ گر ہوگی مگر کہا نہیں جا سکتا کہ وہ کس مذہب کو قبول کرے گی"۔دراصل یہ دنیا کے حقیقی مذہب اسلام کی آمد کا ایک نظارہ ہے جو دنیا کے بڑے بڑے سائینسدانوں کو مستقبل کے دھندلکوں میں افق سے دور آج بھی دکھائی دے رہا ہے۔مادی دنیا گو ابھی اپنی کو تاہ نظری اور بے بصیرتی کے باعث ابھی آنے والے شہنشاہ کو شناخت نہیں کر سکی تاہم وہ جلد یا بذیر اسے دل کی روشنی سے پہچانے گی۔اس کا گرم جوشی سے استقبال کرے گی اور اپنی آنکھیں اس کے لئے فرش راہ کر دے گی۔اور یہی وہ وقت ہو گا جبکہ خدائی کشف کے مطابق حضرت محمد مصطفیٰ ابدی جاہ و جلال کے تخت پر پوری شان سے جلوہ گر ہوں گے۔1