تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 76
تاریخ احمدیت۔جلدا ۱۴ ۷۵ مقدمات کی پیروی تصویر ہے ، آپ کے زمانہ مقدمات پر بھی پوری شان سے حاوی ہے۔قادیان کے کنہیا لعل صراف کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت مرزا صاحب کو بٹالہ جانا تھا۔آپ نے مجھے فرمایا کہ ایک یکہ کرا دیا جائے۔حضور جب نہر پر پہنچے تو آپ کو یاد آیا کہ کوئی چیز گھر میں رہ گئی ہے یکہ والے کو وہاں چھوڑا اور خود پیدل واپس تشریف لائے۔یکہ والے کو پل پر اور سواریاں مل گئیں اور وہ بٹالہ روانہ ہو گیا اور مرزا صاحب غالبا پیدل ہی بٹالہ گئے۔تو میں نے یکہ والے کو بلا کر پیٹا اور کہا کہ کم بخت اگر مرز انظام دین ہوتے تو خواہ تجھے تین دن وہاں بیٹھنا پڑتا تو بیٹھتا۔لیکن چونکہ وہ نیک اور درویش طبع آدمی ہے اس لئے تو ان کو چھوڑ کر چلا گیا۔جب مرزا صاحب کو اس کا علم ہوا تو آپ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تم اس سے معافی مانگو تم نے کیوں اسے مارا۔وہ مزدور آدمی تھا وہ میری خاطر کیسے بیٹھا رہتا اسے مزدوری مل گئی اور چلا گیا۔میں نے کہا حضرت میں اسے ماروں گا اس نے کیوں ایسا کیا۔لیکن حضرت اقدس بار بار یہی فرماتے رہے۔نہیں اس سے معافی طلب کرو "۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا معمول تھا کہ جب مقدمات کے لئے قادیان سے روانہ ہوتے تو اپنے ساتھ اصطبل میں سے سواری کے لئے گھوڑا بھی لے لیتے۔ان سفروں میں آپ کے ہمراہ ان دنوں آپ کے قدیم خدام میں سے مرزا اسماعیل بیگ صاحب (ساکن قادیان) یا مرزا دین محمد صاحب (ساکن لنگروال) یا میاں غفار ایکہ بان ہوتے تھے۔جنہیں آپ گاؤں سے نکل کر سوار کر لیتے اور پھر نصف راسته حضور سوار ہوتے اور نصف راستہ وہ سواری کرتے اور بٹالہ پہنچنے پر اپنی حویلی میں قیام فرماتے تھے۔اور جو جو لاہا اس حویلی کی دیکھ بھال کے لئے مقرر تھا اسے اپنے کھانے سے دیتے اور خود حسب معمول بہت کم کھاتے تھے۔چنانچہ مرزا اسماعیل بیگ صاحب مرحوم کی شہادت ہے کہ جب حضرت اقدس اپنے والد بزرگوار کے ارشاد کے ماتحت بعثت سے قبل مقدمات کی پیروی کے لئے جایا کرتے تھے تو سواری کے لئے گھوڑا بھی ساتھ ہو تا تھا اور میں بھی عموماً ہم رکاب ہو تا تھا لیکن جب آپ چلنے لگتے تو آپ پیدل ہی چلتے اور مجھے گھوڑے پر سوار کرا دیتے۔میں بار بار انکار کرتا اور عرض کرتا حضور مجھے شرم آتی ہے۔آپ فرماتے کہ "ہم کو پیدل چلتے شرم نہیں آتی تم کو سوار ہوتے کیوں شرم آتی ہے "۔جب حضور قادیان سے چلتے تو ہمیشہ پہلے مجھے سوار کرتے۔جب نصف سے کم یا زیادہ راستہ طے ہو جاتا تو میں اتر جاتا اور آپ سوار ہو جاتے اور اسی طرح جب عدالت سے واپس ہونے لگتے تو پہلے مجھے سوار کرتے اور بعد میں آپ سوار ہوتے۔جب آپ سوار ہوتے تو گھوڑا جس چال سے چلتا اسی چال سے اسے چلنے دیتے"۔آپ کے دوسرے قدیم خادم مرزا دین محمد صاحب مرحوم آف لنگروال کا بیان ہے کہ :