تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 77
تاریخ احمدیت جلدا 64 مقدمات کی پیروی میں اولاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے واقف نہ تھا۔یعنی ان کی خدمت میں مجھے جانے کی عادت نہ تھی۔خود حضرت صاحب گوشہ گزینی اور گمنامی کی زندگی بسر کرتے تھے۔لیکن چونکہ وہ صوم و صلوۃ کے پابند اور شریعت کے دلدادہ تھے۔یہی شوق مجھے بھی ان کی طرف لے گیا اور میں ان کی خدمت میں رہنے لگا۔جب مقدمات کی پیروی کے لئے جاتے تو مجھے گھوڑے پر اپنے ساتھ اپنے پیچھے سوار کر لیتے تھے اور بٹالہ جاکر اپنی حویلی میں باندھ دیتے۔اس حویلی میں ایک بالا خانہ تھا آپ اس میں قیام فرماتے۔اس مکان کی دیکھ بھال کا کام ایک جولا ہے کے سپرد تھا جو ایک غریب آدمی تھا۔آپ وہاں پہنچ کر دو پیسے کی روٹی منگواتے۔یہ اپنے لئے ہوتی تھی اور اس میں سے ایک روٹی کی چوتھائی کے ریزے پانی کے ساتھ کھالیتے۔باقی روٹی اور دال وغیرہ جو ساتھ ہوتی وہ اس جو لا ہے کو دے دیتے اور مجھے کھانا کھانے کے لئے چار آنہ دیتے تھے۔آپ بہت ہی کم کھایا کرتے تھے اور کسی قسم کے چسکے کی 12- عادت نہ تھی"۔جس دن آپ نے بٹالہ جانا ہو تا تو سفر سے پہلے آپ دو نفل پڑھ لیتے۔صبح کا کھانا آپ گھر سے کھا جاتے۔۔۔۔آپ نے تحصیل میں چلے جانا میں باہر بیٹھتا تھا۔دوپہر کے وقت جو وقفہ ہو تا تھا اس میں آپ باہر تشریف لاتے اور مجھے چند پیسے دیتے کہ بھوک لگی ہوگی کوئی چیز کھالو قادیان کی واپسی پر آپ کبھی موڑ پر اتر پڑتے اور کبھی قادیان کے نزدیک ایک باغ میں ( جو محلہ دارالصحت کے قریب تھا) قادیان میں کبھی سوار ہونے کی حالت میں آپ تشریف نہیں لائے"۔ان مقدمات میں سب سے نمایاں امر آپ کا انقطاع الی اللہ مقدمات میں انقطاع الی اللہ تھا۔جو ہر موقعہ پر خود بخود ظاہر ہوتا تھا آپ سفر میں ہوتے یا حضر میں عدالت میں ہوتے یا اپنی رہائش گاہ پر یاد الہی سے آپ ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہتے تھے۔بلکہ زندگی کا ہر تغییر آپ کو خد اتعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے کا باعث بنتا تھا۔ڈلہوزی کے سفروں کے متعلق اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ "جب کبھی ڈلہوزی جانے کا مجھے اتفاق ہوتا تو پہاڑوں کے سبزہ زار حصوں اور بہتے ہوئے پانیوں کو دیکھ کر طبیعت میں بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کا جوش پیدا ہو تا اور عبادت میں ایک مزہ آتا اور میں دیکھتا تھا کہ تنہائی کے لئے وہاں اچھا موقعہ ملتا ہے"۔14 عنفوان شباب میں بہاریں لوٹنے کی بجائے خدا تعالیٰ کے تصور میں یوں کھوئے جانا آپ کے اس عشق کا پتہ دیتا ہے جو آپ کے قلب صافی میں بحر مواج کی شکل میں ہردم موجزن رہتا تھا۔آپ دست با کار اور دل بایار کی مجسم تصویر اور عالم جوانی میں عشق الہی کے سانچے میں ڈھلا ہوا نفیس قالب تھے