تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 75 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 75

تاریخ احمدیت جلدا ۷۴ مقدمات کی پیروی تھا۔اس وقت سلطان احمد کا وکیل میرے پاس آیا کہ اب وقت پیشی مقدمہ ہے آپ کیا اظہار دیں گے۔میں نے کہا کہ وہ اظہار دوں گا جو واقعی امر ہے اور سچ ہے۔تب اس نے کہا کہ پھر آپ کے کچھری جانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں جاتا ہوں تا مقدمہ سے دست بردار ہو جاؤں۔سودہ مقدمہ میں نے اپنے ہاتھوں سے محض رعایت صدق کی وجہ سے آپ خراب کیا اور راست گوئی کو ابْتِغَاءَ لَمَرَضَاتِ الله مقدم رکھ کر مالی نقصان کو بیچ سمجھا"۔دوسری مثال حضور خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی روایت ہے کہ : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ خاندانی جائیداد کے متعلق ایک مقدمہ تھا اس مکان کے چبوترے کے متعلق جس میں اب صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں۔اس چبوترہ کی زمین دراصل ہمارے خاندان کی تھی مگر اس پر دیرینہ قبضہ اس گھر کے مالکوں کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے بڑے بھائی صاحب نے اس کے حاصل کرنے کے لئے مقدمہ چلایا اور جیسا کہ دنیا داروں کا قاعدہ ہے کہ جب زمین وغیرہ کے متعلق کوئی مقدمہ ہو اور وہ اپنا حق اس پر سمجھتے ہوں تو اس کے حاصل کرنے کے لئے جھوٹی سچی گواہیاں دلائیں۔اس پر اس گھر کے مالکوں نے یہ امر پیش کر دیا کہ ہمیں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ان کے چھوٹے بھائی صاحب کو بلا کر گواہی لی جائے۔اور جو وہ کہہ دیں ہمیں منظور ہو گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے اور جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ان لوگوں کو اس رستہ سے آتے جاتے اور اس پر بیٹھتے عرصہ سے دیکھ رہے ہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ ہاں !! اس پر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا آپ کے بڑے بھائی صاحب نے اسے اپنی ذلت محسوس کیا اور بہت ناراض ہوئے مگر آپ نے فرمایا کہ جب امر واقعہ یہ ہے تو میں کس طرح انکار کر سکتا ہوں؟ ان مقدمات میں منکسر المزاجی اور حسن خلق کے نادر اور بے مثال نمونے حضور کی منکر المزاجی، درویشانہ طبع اور حسن خلق کے متعدد اور بے مثال نمونے ظاہر ہوئے۔جس نے آپ کے ساتھ ہم رکاب ہونے والوں کو بے حد متاثر کیا اور وہ آپ کے وجود میں اخلاق محمدی کا جلوہ دیکھ کر انگشت بدنداں ہو جاتے تھے۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کہا کرتے تھے کہ " والد صاحب نے اپنی عمر ایک مغل کے طور پر نہیں گذاری بلکہ فقیر کے طور پر گزاری " یہ فقرہ جو آپ کی پوری زندگی کی مختصر مگر جامع