تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 62
تاریخ احمدیت جلدا 41 شادی انتطاع الی اللہ باب چهارم دوم شادی انقطاع الی اللہ ناموس مصطفی اللہ کے لئے ایک فیصلہ کن روحانی جنگ کی تیاری کثرت مطالعہ خدمت خلق اور دیگر مشاغل تخمیناً ۱۸۵۰ تا ۱۸۵۴) سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابھی تعلیمی دوری میں قدم رکھتے تھے کہ کم پہلی شادی و بیش پندرہ سولہ برس کی عمر میں ازدواجی کشمکش سے دو چار ہو گئے۔آپ کے ایک سگے ماموں مرزا جمعیت بیگ تھے ان کے ہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھی۔لڑکے کا نام مرزا علی شیر تھا اور لڑکی حرمت بی بی۔مرزا علی شیر کا نکاح مرزا احمد بیگ ہو شیار پوری کی ہمشیرہ سے ہوا۔اور حرمت بی بی آپ کے نکاح میں آئیں۔یہ آپ کا پہلا نکاح تھا جس سے دو فرزند مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد صاحب بالترتیب قریباً ۱۸۵۳ء اور ۱۸۵۵ء میں پیدا ہوئے۔یہ عجیب خدائی تصرف ہے کہ جہاں آپ کے بڑے بھائی کی شادی بڑے دھوم دھڑکے سے ہوئی کئی دن جشن رہا اور ۲۲ طائفے اور ارباب نشاط جمع ہوئے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریب شادی نہایت درجہ سادگی اور اسلامی ماحول میں ہوئی اور کسی قسم کی خلاف شریعت رسوم اور بدعات نہیں ہو ئیں۔۔خلوت نشینی نشد ہمارے یہاں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ نوجوان شادی کے بعد اپنی تعلیمی ذمہ داریوں سے عہدہ پر آہونے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خلوت نشینی اور عزلت پسندی میں وہ کمال حاصل تھا کہ شادی آپ کے سلسلہ تعلیم پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہو سکی۔قادیان کے پاس کے گاؤں کا ایک معمر ہندو جاٹ بیان کیا کرتا تھا کہ میں مرزا صاحب سے ہیں سال بڑا ہوں۔بڑے مرزا صاحب کے پاس میرا بہت آنا جانا تھا میرے سامنے کئی دفعہ ایسا ہوا