تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 63
تاریخ احمدیت جلدا ۶۲ شادی انتطاع الی الله کہ کوئی بڑا افسر یار کیں بڑے مرزا صاحب سے ملنے کے لئے آتا تھا تو باتوں باتوں میں ان سے پوچھتا تھا کہ مرزا صاحب آپ کے بڑے لڑکے (یعنی مرزا غلام قادر) کے ساتھ تو ملاقات ہوتی رہتی ہے لیکن آپ کے چھوٹے بیٹے کو کبھی نہیں دیکھا۔وہ جواب دیتے تھے کہ ”ہاں میرا دو سرالڑ کا غلام قادر سے چھوٹا ہے تو سہی پر وہ الگ ہی رہتا ہے۔پھر وہ کسی کو بھیج کر مرزا صاحب کو بلواتے تھے چنانچہ آپ آنکھیں نیچی کئے ہوئے آتے اور والد صاحب کے پاس ذرا فاصلہ پر بیٹھ جاتے اور یہ عادت تھی کہ بایاں ہاتھ اکثر منہ پر رکھ لیا کرتے تھے اور کچھ نہ بولتے اور نہ کسی کی طرف دیکھتے۔بڑے مرزا صاحب فرماتے اب تو آپ نے اس دلہن کو دیکھ لیا۔بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا سیتر ہے نہ نوکری کرتا ہے نہ کماتا ہے اور پھر وہ ہنس کر کہتے کہ چلو تمہیں کسی مسجد میں ملا کر وا دیتا ہوں۔دس من وانے تو گھر میں کھانے کو آجایا کریں گے آج وہ زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ کیا بادشاہ بنا بیٹھا ہے اور سینکڑوں آدمی اس کے در کی غلامی کے لئے دور دور سے آتے ہیں "۔شادی سے قبل ایک دفعہ حضور نے ایک ہندو سے (جو آپ کے والد بزرگوار کے سامنے بیٹھا ہوا اپنی تلخ کامیاں اور نا مرادیاں بیان کرتا تھا اور سخت کراہ رہا تھا) فرمایا کہ ”لوگ دنیا کے لئے کیوں اس قدر دکھ اٹھاتے اور ہم و غم میں گرفتار ہیں؟ ہندو نے کہا کہ ” تم ابھی بچے ہو جب گرہستی ہو گے تب تمہیں ان باتوں کا پتہ لگے گا"۔کم و بیش پچیس سال کے بعد کسی تقریب پر اسی ہندو کو آپ سے دوبارہ ملنے کا اتفاق ہوا تو حضور نے اسے گذشتہ واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اب تو میں گرہستی ہوں"۔اس نے کہا " تم تو ویسے ہی ہو"۔خدمت دیں کی ابتدائی مہم چونکہ شادی محض سنت رسول کی تھیل میں تھی۔اس لئے جناب الہی سے آپ کو ایسا جذب عطا ہوا کہ شادی کے بعد آپ کے دل میں محبوب حقیقی کی محبت کا جذبہ طوفان بن کر اٹھا اور آندھی کی طرح آپ کے رگ و ریشہ پر چھا گیا۔دینی مطالعہ کا شغف اور شوق پہلے سے ترقی کر گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کے دل و دماغ آنحضرت کے نشہ عشق سے ایسے مخمور ہوئے کہ آپ دین مصطفیٰ کی بے بسی اور غیر مذاہب کی نا قابل برداشت چیرہ دستیوں سے دلفگار رہنے لگے۔چنانچہ اسی وقت سے آپ نے معاندین اسلام کے ان اعتراضات کو جمع کرنے کی مہم شروع کر دی جو سرور کائنات ﷺ کی ذات ستودہ صفات پر چاروں طرف سے کئے جا رہے تھے اور جنہیں سن سن کر آپ کا دل کباب ، سینہ چھلنی اور آنکھیں اشکبار ہو ہو جاتی تھیں۔آپ خود فرماتے ہیں: میں سولہ سترہ برس کی عمر سے عیسائیوں کی کتابیں پڑھتا ہوں اور ان کے "