تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 58 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 58

تاریخ احمدیت جلدا ۵۷ ولادت چین اور تعلیم اور سجادہ نشینوں پر سکوت مرگ طاری کر دیا اور وہ حضور کی بے لوث زندگی پر انگشت نمائی کرنے سے سراسر قاصر رہے۔یہ تو آپ کے ہم مکتبوں کا تاثر تھا ورنہ زمانہ طالب علمی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فہم و فراست اور تقوی شعاری اور علم لدنی کا بعض مواقع پر آپ کے اساتذہ کو بھی معترف ہونا پڑا۔چنانچہ ایک دفعہ دوران تعلیم میں حضور کے ایک استاد مولوی فضل احمد صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک شخص نے خواب دیکھا تھا کہ ایک مکان ہے جو دھواں دھار ہے یعنی اس کے اندر باہر سب دھواں ہو رہا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر آنحضرت ا ہیں اور چاروں طرف سے عیسائیوں نے اس (مکان) کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔استاد نے یہ بھی بتایا کہ ہم میں سے کسی کو اس کی تعبیر نہیں آئی۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ شخص عیسائی ہو جائے گا کیونکہ انبیاء کا وجود آئینہ کی طرح ہوتا ہے۔پس اس نے جو آپ کو دیکھا ہے تو گویا اپنی حالت کے عکس کو دیکھا"۔حضور کا یہ جواب سن کر آپ کے وہ استاد بہت متعجب بھی ہوئے اور خوش بھی۔اور کہنے لگے کہ "کاش! ہم اس کی تعبیر جانتے اور اسے وقت پر سمجھاتے تو وہ شاید ارتداد سے بچ جاتا " آنحضرت الله کی زیارت رور FA تعلیم کا اہم ترین واقعہ یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آغاز جوانی میں بذریعہ رویاء سرتاج مدینہ نور دو عالم حضرت محمد مصطفی الله کے رخ انور کی زیارت کا شرف نصیب ہوا۔اس زیارت کے بعد جب تک زندہ رہے عشق رسول میں فتا ر ہے اور کو بعد میں آپ نے کشفی رنگ میں اپنے آقا فداہ ابی رامی کی متعدد بار بیداری میں ملاقات بھی کی۔اور کئی حدیثوں کی تصدیق بھی آپ سے براہ راست کی لیکن اس زیارت میں رسول خد امحمد عربی کے نورانی مکھڑے نے آپ کو کچھ ایسا مستانہ بنا دیا کہ آپ ہمیشہ کے لئے حضور کے تیز نگاہ سے گھائل ہو گئے۔آپ نے اپنی پوری دنیا بھلادی مگر یہ عظیم الشان محمد ی جلوہ فراموش نہیں کر سکے۔دربار رسالت کی اس ابتدائی حاضری کا دلکش اور وجد آفرین نقشہ کھینچتے ہوئے حضور آئینہ کمالات اسلام اور براہین احمدیہ حصہ سوم میں تحریر فرماتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام کی اصل عبارت عربی کی ہے جس کا ترجمہ درج کیا گیا ہے): اوائل ایام جوانی میں ایک رات میں نے (رویا میں) دیکھا کہ میں ایک عالی شان مکان میں ہوں جو نہایت پاک اور صاف ہے اور اس میں آنحضرت ﷺ کا ذکر اور چرچا ہو رہا ہے۔میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضور کہاں تشریف فرما ہیں۔انہوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔چنانچہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر چلا گیا۔اور جب میں حضور کی خدمت میں پہنچا تو حضور