تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 59 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 59

تاریخ احمدیت جلدا ۵۸ ولادت بچین اور تعلیم بہت خوش ہوئے اور آپ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔آپ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپ کی پر شفقت و پر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے اور وہ مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔آپ کی محبت نے مجھے فریفتہ کر لیا۔اور آپ کے حسین و جمیل چہرہ نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا۔اس وقت آپ نے مجھے فرمایا اے احمد تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ جب میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور وہ مجھے اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی۔میں نے عرض کیا حضور یہ میری ایک تصنیف ہے"۔آنحضرت ﷺ نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔خاکسار نے عرض کیا کہ اس کتاب کا میں نے قطبی نام رکھا ہے۔۔۔غرض آنحضرت نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوشرنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر تربوز تھا۔آنحضرت نے جب اس میدہ کو تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔تب ایک مردہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا آنحضرت کے معجزہ سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے اکھڑا ہوا اور یہ عاجز آنحضرت کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زیر دست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما ر ہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت ﷺ نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہوا۔اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں۔اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھالی۔پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کی کرسی اونچی ہو گئی ہے حتی کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے اور میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ کا چہرہ مبارک ایسا چمکنے لگا کہ گویا اس پر سورج اور چاند کی شعائیں پڑ رہی ہیں اور میں ذوق اور وجد کے ساتھ آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا اور میرے آنسو بہہ رہے تھے۔پھر میں بیدار ہو گیا اور اس وقت بھی میں کافی رو رہا تھا اور اللہ تعالٰی نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مردہ شخص اسلام ہے اور اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کے روحانی فیوض کے ذریعہ سے اسے اب میرے ہاتھ پر زندہ کرے گا- اللهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمَ إِنَّكَ ་ حميد مجيد۔