تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 57 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 57

تاریخ احمدیت جلدا ۵۶ ولادت چین اور تعلیم کنور سین کو اپنی زندگی کے آخری سانس تک حضرت اقدس سے بے حد الفت و عقیدت رہی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے براہین احمدیہ کی اشاعت پر اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ جلدے میں ہم کتی کے انہی ایام کی یاد میں لکھا۔" مولف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے حاضرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔مولف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب۔اس زمانہ سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلات برابر جاری رہی ہے۔اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دیے جانے کے قابل ہے"۔اپنے اس لمبے اور ذاتی تعارف کی بناء پر مولوی صاحب نے بڑی تحدی کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی جلالت مرتبت کا بایں الفاظ اقرار کیا کہ : اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے ۲۵ جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی جاتی ہے " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دلر با شخصیت اور تقدس کے انہی گہرے نقوش کا اثر تھا کہ مولوی صاحب دلی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب واپس بٹالہ آئے تو اگرچہ ایک عالم کی حیثیت سے ہندوستان بھر میں مشہور ہو گئے اور ہر جگہ ان کا طوطی بولنے لگا۔مگر اس وقت بھی ان کی حضور سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ حضور کا جو تا آپ کے سامنے سیدھا کر کے رکھتے اور اپنے ہاتھ سے آپ کا وضو کرانا موجب سعادت قرار دیتے تھے " چنانچہ حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی کا چشم دید واقعہ ہے کہ : دعوئی سے پہلے ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مولوی محمد حسین صاحب ٹالوی کے مکان واقعہ بٹالہ پر تشریف فرما تھے۔میں بھی خدمت اقدس میں حاضر تھا۔کھانے کا وقت ہوا تو مولوی صاحب خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ دھلانے کے لئے آگے بڑھے۔حضور نے ہر چند فرمایا کہ مولوی صاحب آپ نہ دھلائیں مگر مولوی صاحب نے باصرار حضور کے ہاتھ دھلائے اور اس خدمت کو اپنے لئے باعث فخر سمجھا"۔دعوئی مسیحیت کے بعد جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مخالفت پر کمربستہ ہو گئے بلکہ اول المکذبین بن کر آپ کے خلاف پہلا اور منتظم محاذ قائم کر لیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ہندوستان بھر کے تمام علماء کو چیلنج دیا کہ وہ آپ کی دعویٰ سے قبل کی زندگی کے کسی گوشہ کو داغ دار ثابت کر دکھائیں۔اس زبر دست تحدی نے مولوی محمد حسین بٹالوی اور ان کے ہم خیال علماء