تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 52 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 52

تاریخ احمدیت جلدا ۵۱ ولادت بچین اور تعلیم حضرت کا پاکیزہ بچپن حضرت اقدس علیہ السلام کا بچپن ملی ماحول کی بے شمار آلودگیوں کے باوجو معجزانہ طور پر نہایت درجہ پاکیزہ اور مقدس تھا۔آپ کو کم سنی میں قادیان اور اس کے مضافات کے علاوہ اپنے تمال ایمہ ضلع ہوشیار پور میں بھی کئی مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا۔مگر آپ جہاں بھی تشریف لے گئے دوسرے تمام بچوں سے ممتاز پائے گئے۔متانت سنجیدگی، تنہا پسندی اور گہرے غور و فکر کی قوت ابتداء ہی سے قدرت نے آپ کو ودیعت کر رکھی تھی اور آپ بچپن ہی سے ایک نرالی دنیا کے فرد نظر آتے تھے۔موضع بہادر حسین ضلع گورداسپور کے ایک سر بر آوردہ شخص کی گواہی ہے کہ ایک مرتبہ آپ اپنے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کے ساتھ ان کے گاؤں آئے تھے یہ گاؤں ان کی جاگیر تھا۔" مرزا غلام قادر صاحب ہمارے ساتھ کھیلتے اور جو جو کھیلیں ہم کرتے وہ بھی کرتے مگر مرزا غلام احمد صاحب نہ لڑکوں کے ساتھ کھیلتے اور نہ شوخی وغیرہ کی باتیں کرتے بلکہ چپ چاپ بیٹھے رہتے " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ہم عمر ہندو کی شہادت ہے کہ ” میں نے بچپن سے مرزا غلام احمد کو دیکھا ہے (علیہ السلام) میں اور وہ ہم عمر ہیں اور قادیان میرا آنا جانا ہمیشہ رہتا ہے اور اب بھی دیکھتا ہوں جیسی عمدہ عادات اب ہیں ایسی نیک خصلتیں اور عادات پہلے تھیں اب بھی وہی ہیں۔سچا امانت دار اور نیک۔میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پر میشور مرزا صاحب کی شکل اختیار کر کے زمین پر اتر آیا ہے اور پر میشور اپنے جلوے دکھا رہا ہے"۔حضرت اقدس اپنے عہد طفولیت کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ایک دفعہ آپ بچپن میں گاؤں سے باہر ایک کنوئیں پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت محسوس ہوئی جو گھر سے لانی تھی۔اس وقت آپ کے پاس ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا۔آپ نے اس سے کہا کہ مجھے یہ چیز لا دو۔اس نے کہا میاں ! میری بکریاں کون دیکھے گا؟ آپ نے کہا تم جاؤ میں ان کی حفاظت کروں گا اور چراؤں گا۔چنانچہ آپ نے اس کی بکریوں کی نگرانی کی اور اس طرح خداتعالی نے نبیوں کی سنت آپ سے پوری کرادی۔اٹھارہویں صدی کی ہلاکت آفرینیوں نے دنیا میں الحاد و دہریت اور فسق و فجور کا ایک تند و تیز سیلاب بہار کھا تھا اور بڑے بڑے متدین خاندان اس کی زد میں آچکے تھے بلکہ خود آپ کے خاندان میں بے دینی کی ایک رو چل نکلی تھی۔لیکن حضرت کے قلب صافی میں ابتداء ہی سے خدا تعالی کی عبادت اور اس سے محبت کے جذبات موجزن تھے اور دنیا کی کوئی دلکشی اور رنگینی آپ کے اس والہانہ عشق میں حائل نہیں ہو سکی۔